مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 366
۳۶۶ تشریف لے گئے جس قدر ہجوم ایک دن قبل جہلم ریلوے اسٹیشن پر استقبال کے لئے آیا تھا۔اس سے بھی زیادہ اب موجود تھا۔مرزا صاحب کی گاڑی جب کچہری کے میدان میں جا کر ٹھہری تو کثرت ہجوم کے باعث مرزا صاحب گاڑی کے اندر ہی ٹھہرے رہے۔آدمی پر آدمی گرا پڑتا تھا۔پولیس ڈنڈوں سے لوگوں کو پیچھے ہٹاتی تھی مگر وہ آگے ہی بڑھتے جاتے تھے۔تین بجے کے قریب مرزا صاحب نے عدالت میں قدم رکھا۔عدالت کا کمرہ لوگوں سے بھرا ہوا تھا حتی کہ جس پلیٹ فارم پر مجسٹریٹ کی کر سی تھی اس پر بھی لوگ کھڑے تھے۔ا VI مقدمے کا خارج ہونا: ۱۹ جنوری ۱۹۰۳ء کو فاضل مجسٹریٹ رائے سنسار چند نے فیصلہ دے کر مولوی کرم دین صاحب کا مرزا غلام احمد صاحب کے خلاف مقدمہ خارج کر دیا۔مولوی صاحب نے سیشن جج جہلم کی عدالت میں نگرانی دائر کی جو خارج کر دی گئی اور اس طرح مرزا صاحب کی بریت ہوئی۔سے بادی النظر میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا صاحب کا قادیان سے جہلم تک اور وہاں قیام اور پھر واپسی کا سفر کسی مقدمہ کو بھگتانے کی خاطر نہ تھا بلکہ الہی فضلوں اور برکتوں اور حمتوں کی بارش سمیٹنے کا باعث تھا۔مرزا صاحب کے مخالف کس طرح اہانت کے درپے تھے اور خدا تعالیٰ کس طرح ان کے سارے منصوبے خاک میں ملا کر آپ کا احترام اور وقار کو بڑھاتا جارہا تھا۔ا : دوست محمد شاہد ۱۹۶۲ء - تاریخ احمدیت۔جلد سوم - صفحات ۲۷۶-۲۷۷ : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۷ء- حقیقۃ الوحی صفحه ۲۶۴