مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 367 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 367

مولوی کرم دین صاحب کا دوسرا مقدمہ: مولوی کرم دین صاحب نے پہلے مقدمے میں ناکامی کے بعد ۲۶ /جنوری ۱۹۰۳ء کو ایک دوسرا فوجداری مقدمہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اور حکیم فضل دین صاحب کے خلاف رائے سنسار چند صاحب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جہلم کی عدالت میں دائر کر دیا۔مولوی صاحب کے اس مقدمے کی بنیاد یہ تھی کہ مرزا صاحب نے اپنی تصنیف مواہب الرحمن (۱۹۰۳ء) میں کذاب مہین کے الفاظ جن کا ذکر گزشتہ صفحات پر مولوی صاحب کے پہلے مقدمے میں آچکا ہے مولوی کرم دین صاحب کے بارے میں استعمال کر کے ان کی توہین کی ہے کیونکہ ان کے بیان کے مطابق یہی الفاظ ایک خاص کا فرولید بن مغیرہ کی نسبت استعمال کئے گئے ہیں۔اس لئے مرزا صاحب نے یہ الفاظ مولوی کرم دین صاحب کے لئے استعمال کر کے انہیں کا فر سے تشبیہ دی ہے۔مولوی صاحب کا دائر کردہ مقدمہ تقریباً ۲ سال تک مختلف عدالتوں میں چلتا رہا جس میں کئی اہم شخصیتوں نے مرزا صاحب کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی لیکن درد ناک انجام سے دو چار ہوئیں اور مولوی کرم دین صاحب نہ صرف آخر کار عدالت سے کذاب اور لئیم کا خطاب لے کر نکالے گئے بلکہ ان کا انجام بھی بڑی درد ناک موت پر ہوا۔ہم واقعات کے تسلسل کو اختصار کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ا۔مقدمے کے بارے میں مرزا غلام احمد صاحب کے الہامات: جونہی مولوی کرم دین صاحب نے مرزا صاحب کے خلاف فوجداری مقدمہ