مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 356
۳۵۶ خدا کی قسم وہ اس شریر کو مجھ پر ہرگز مسلط نہیں کرے گا۔اس پر خدا کی آفت نازل ہوگی اور میں جو اس کی پناہ کا طالب ہوں محفوظ رہوں گا۔IV- مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی پیشگوئی مندرجہ بالا کی موجودگی میں بہت سے دوست احباب ماسٹر سعد اللہ لدھیانوی کو بار بار کہتے رہے کہ اتنی زیادہ عمر ہو جانے اور ساری تیاری مکمل ہو جانے کے باوجود وہ کیوں اپنے بیٹے محمود کی شادی نہیں کرتا ، تا کہ مرزا صاحب کی پیشگوئی کے سچا یا جھوٹا ہونے کا پتہ چل سکے لیکن جیسا کہ بعد میں مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اپنے اخبار میں بڑی حسرت سے لکھا کہ سعد اللہ کے بیٹے کی نسبت حاجی عبدالرحیم صاحب کی دختر سے طے ہو چکی تھی اور عنقریب شادی ہونے والی تھی کہ سعد اللہ لدھیانوی کا جنوری ۱۹۰۷ء کے پہلے ہفتے میں چند گھنٹے کی نمو نیا پلیگ کی بیماری کے بعد انتقال ہو گیا۔ماسٹر صاحب اس طرح فوت ہو کر مرزا صاحب کی پیشگوئی پر سچائی کی مہر لگا گئے۔ہے V - ماسٹر سعد اللہ لدھیانوی کی وفات کے بعد ان کے اکلوتے بیٹے نے شادی بھی کر لی لیکن ایک لمبا عرصہ زندہ رہنے کے بعد ۱۲ جولائی ۱۹۲۶ء کو بے اولا دمر گیا اور اس کے ساتھ ہی ماسٹر صاحب کی نسل منقطع ہوگئی اور مرزا صاحب کا الہام پورا ہوا که ان شانئک ھو الابتر “ اور سچے اور جھوٹے کا بھی فیصلہ ہو گیا۔سعد اللہ کے ابتر رہنے کا الہام کے ذریعے اعلان مرزا صاحب نے پہلی دفعہ ۲۹ ستمبر ۱۸۹۴ء کو کیا تھا اور آخری چیلنج 1904ء میں حقیقۃ الوحی کی تصنیف میں دیا تھا۔لے : دوست محمد شاہد- تاریخ احمدیت۔جلد سوم صفحه ۴۹۴ : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۷ء- حقیقۃ الوحی۔تتمہ صفحہ ۵