مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 351
۳۵۱ مرزا صاحب سے کہا کہ یہ الہام شیطانی ہیں۔اس نے مرزا صاحب کو مسیلمہ کذاب سے مشابہت دی اور کہا کہ تو بہ نہ کرو گے تو افترا کی سزا بھگو گے۔مرزا صاحب نے کہا کہ میں اگر مفتری ہوں تو افترا کی سزا پاؤں گا ورنہ جو شخص مجھے مفتری کہتا ہے وہ مواخذہ سے نہیں بچ سکتا۔مولوی صاحب نے مرزا صاحب کی تکذیب میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے ایک اشتہار بھی چھاپ کر بیچا۔بالآ خر مولوی صاحب دہلی میں ۹ رفروری ۱۹۰۷ء کو ہیضہ سے ہلاک ہو گئے۔۱۵- مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے معاندین میں سے جس نے آپ کے خلاف سب سے زیادہ گندی زبان استعمال کی اس کا نام ماسٹر سعد اللہ لدھیانوی ہے۔اس کی عداوت کے بارے میں مرزا صاحب نے خود لکھا کہ وہ میری موت کا خواہاں تھا اور اپنی نظم ونثر میں میرے لئے بددعائیں کرتا تھا اور اپنی سفاہت اور جہالت سے میری تباہی اور ہلاکت کو بدل چاہتا تھا اور لعنة الله على الكاذبین میرے حق میں اس کا ورد تھا اور تمنا کرتا تھا کہ میں اس کی زندگی میں تباہ ہو جاؤں اور ہلاک ہو جاؤں اور یہ سلسلہ زوال پذیر ہو جائے اور اس وجہ سے جھوٹا ٹھہروں اور مخلوق کی لعنت کا نشانہ بنوں میں باور نہیں کر سکتا کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے کسی نے ایسی گندی گالیاں کسی نبی اور مُرسل کو دی ہوں جیسا کہ اس نے مجھے دیں۔چنانچہ جس شخص نے اس کی مخالفانہ نظمیں اور نثریں اور اشتہار دیکھے ہوں گے اس کو معلوم ہوگا کہ وہ میری ہلاکت اور نابود ہونے کے لئے اور نیز میری ذلت اور نامرادی دیکھنے کے لئے کس قدر