مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 14
۱۴ سے جدا کر دیتی ہے اور کوئی سال بھی اس بات سے خالی نہیں گزرتا کہ یہ عظیم الشان آگ اور المناک حادثہ ظاہر نہ ہوتا ہو یا اس کی تباہی کی وجہ سے شور قیامت بپا نہ ہوتا ہو۔یہ حالت دیکھ کر میرا دل دنیا سے سرد ہو گیا ہے اور چہرہ غم سے زرد اور اکثر حضرت سعدی شیرازی رحمتہ اللہ علیہ کے یہ دو مصرعے زبان پر جاری رہتے ہیں اور حسرت وافسوس کی وجہ سے آنکھوں سے آنسو بہہ پڑتے ہیں۔مکن تکیه برعمر نا پائیدار از بازیء مباش ایمن از بازی ء روزگار اس لئے میں چاہتا ہوں کہ باقی عمر گوشہ تنہائی اور گنج عزلت میں بسر کروں اور عوام اور ان کی مجالس سے علیحدگی اختیار کروں اور اللہ تعالیٰ سبحانہ کی یاد میں مصروف ہو جاؤں تا تلافی مافات کی صورت پیدا ہو جائے۔۔۔۔۔کیونکہ دنیا کی کوئی پختہ بنیاد نہیں۔زندگی کا کوئی اعتبار نہیں اور حیات مستعاد پر کوئی اعتماد نہیں۔جس شخص کو اپنا فکر نہ ہوا سے کسی آفت کا کیا غم۔۷- مکالمات الہیہ کا آغاز : قبل ازیں ہم نے مرزا غلام احمد صاحب کے اس رؤیا کا ذکر کیا ہے جس میں آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی تھی۔اگر چہ اس کا صحیح سن ، سال کہیں ل : مرزا غلام احمد - خط بنام والد صاحب منقول از سیرت المہدی (مصنفہ مرزا بشیر احمد ) حصہ اوّل صفحہ ۵۶