مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 333 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 333

۳۳۳ عقیدے وفات مسیح کو غلط ثابت کرنے کے لئے ایک رسالہ حیات المسیح لکھا جس میں مرزا صاحب کے خلاف بہت سخت زبان استعمال کی اور عین اُن دنوں جب طاعون ہر طرف پھیلی ہوئی تھی یہ کہا کہ اگر بقول مرزا صاحب یہ طاعون کی وبا مسیح موعود یعنی مرزا غلام احمد کی صداقت کی نشانی ہے تو وہ اسے کیوں نہیں ہو جاتی۔آخر طاعون نے مولوی رسل بابا کو آن پکڑا اور وہ ۱۸ دسمبر ۱۹۰۲ءکو صبح ساڑھے پانچ بجے اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔- لد مولوی غلام دستگیر قصوری بھی مرزا صاحب کے شدید مخالفین میں شامل تھے جب انہیں علم ہوا کہ خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑاں شریف نے مرزا صاحب کی صداقت کی تصدیق کی ہے تو وہ اُن کے گاؤں پہنچے اور انہیں مرزا صاحب کی تکذیب پر آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ برابر تصدیق کرتے رہے اور اپنی تصنیف اشارات فریدی میں مرزا صاحب پر مخالفین کے اعتراضات کے مدلل جواب بھی دیئے۔مولوی غلام دستگیر نے مرزا صاحب کی مخالفت میں ایک کتاب ”فتح رحمانی لدھیانہ سے ۱۸۹۷ء میں شائع کی جس میں مباہلہ کے رنگ میں مرزا صاحب کے خلاف ایک بددُعا بھی لکھی جس میں لکھا کہ اللهم ذو الجلال والاكرام یا مالک الملک جیسا کہ تو نے ایک عالم ربانی حضرت محمد طاہر مؤلف مجمع بحارالانوار کی دُعا اور سعی سے اس مہدی کا ذب اور جعلی مسیح کا بیڑہ غرق کیا (جو ان کے زمانے میں پیدا ہوا تھا ) ویسا ہی دُعا اور التجا اس فقیر قصوری کان اللہ لہ سے ہے جو لے مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۷ء- حقیقۃ الوحی۔صفحات ۲۹۹-۳۰۰