مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 331 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 331

۳۳۱ تخرج الصدور الى القبور‘ ! یعنی ( مخالفین کے سرکردہ قبروں کی طرف منتقل کئے جائیں گے۔اس کے بعد بعض سرکردہ مخالفین یکے بعد دیگرے موت سے ہمکنار ہوئے۔1- اولیں ہلاک ہونے والوں میں مولوی نذیر حسین دہلوی ، مولوی فتح علی اور اللہ بخش تونسوی تھے۔شیخ المشائخ مولوی نذیرحسین دہلوی ہندوستان کے اکثر علماء کے اُستاد تھے۔یہ مرزا صاحب کے خلاف سب سے پہلے کفر کا فتویٰ دینے والوں میں سے تھے۔انہوں نے اپنے شاگردمولوی محمد حسین بٹالوی کے ایما پر لکھا تھا کہ مرزا صاحب ضال مضل اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں اور ایسے لوگوں کو مسلمانوں کی قبروں میں دفن نہیں کرنا چاہئے۔ابتدا ۱۸۹۱ء میں جب مرزا غلام احمد صاحب دہلی گئے تھے تو مولوی صاحب موصوف اس وقت شیخ الگل کہلاتے تھے۔مرزا صاحب نے ان کو بھی مباحثے کے لئے للکارا تھا ( دیکھئے اس باب میں۔مباحثہ الحق۔دہلی ) لیکن مولوی صاحب نے ہر طرح سے مباحثے سے بچنے کی کوشش کی اور پوری سعی کر کے سچائی کو چھپایا۔مرزا صاحب نے جب ۱۸۹۷ء میں مباہلے کا چیلنج دیا تو بھی مولوی صاحب اول المدعوین تھے مگر پھر بھی اس روحانی طریق سے اجتناب کیا۔بالآخر اپنے لائق بیٹے کی موت کا صدمہ دیکھا اور ابتر حالت میں دنیا سے کوچ کر گئے۔میاں اللہ بخش تونسوی سنگھڑی بھی مشہور سجادہ نشین تھے۔۱۸۹۱ء میں مرزا صاحب نے ان کے لئے متکبر کا لفظ استعمال کیا تھا۔آپ بھی مرزا صاحب کے شدید مخالفین ا : مرزا غلام احمد قادیانی - اخبار الحکم قادیان۔۳۱ راکتو بر۱۹۰۲ء( تذکره صفحه۴۳۲ )