مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 317 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 317

۳۱۷ مطابقت رکھتا تھا اور وہ چاہتے تھے کہ تکفیر بازی کا مشغلہ بند ہو۔مرز اصاحب ۱۸۹۷ء میں اس خواہش کا اظہار کر چکے تھے کہ علماء ” میری جماعت سے سات سال تک اس طرح صلح کر لیں کہ تکفیر اور تکذیب اور بدزبانی سے منہ بند رکھیں۔‘۲ III- اگر چہ مولوی محمد حسین بٹالوی اس مقدمے میں فریق نہیں رہے تھے اور پولیس ہی سرا سر مقد مے کو چلا رہی تھی لیکن ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء کو جب اس کا فیصلہ تھا مولوی صاحب محض تماشا دیکھنے کے لئے اور مرزا صاحب کو سزا سنائے جانے کی امید لے کر وہاں آگئے۔ڈپٹی کمشنر نے ان کو دیکھتے ہی ان سے بھی مندرجہ بالا نوٹس پر دستخط کروائے۔اس طرح مرزا صاحب جو دل سے تکفیر و تکذیب کو نا پسند کرتے تھے ان کی دلی مراد بر آئی جب کہ مولوی صاحب جو تا عمر مرزا صاحب کو کافر لکھتے رہنے کے عزم کا بار ہا اظہار کر چکے تھے وہ بھی اب قانونا اس بات کے پابند ہو گئے کہ آئندہ وہ کسی کی تکذیب نہیں کریں گے۔مرزا صاحب کو اس سے دوہری خوشی ہوئی اور مولوی صاحب نے عدالت میں غیر ضروری طور پر آکر اپنے ہاتھ کاٹ لئے“۔اب وہ اپنے رسالے اشاعۃ السنہ میں مرزا صاحب کو دجال مفتری ، کذاب وغیرہ نہ لکھ سکیں گے اس طرح مرزا صاحب کے الہام کا یہ حصہ پورا ہوا کہ ظالم اپنے ہاتھ کاٹے گا اور اپنی شرارتوں سے روکا جائے گا۔لے : ڈپٹی کمشنر گورداسپور- فیصله ۲۴ فروری ۱۸۹۹ء ( تریاق القلوب مرزا غلام احمد صفحه ۱۸۶) ہے : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۸۹۷ء - انجام آنقم طبع اول - ضمیمہ صفحات ۲۷-۲۸