مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 307 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 307

۳۰۷ طاعون سے شہید ہو گئے ! منشی صاحب نے مرزا صاحب کے لئے طاعون سے ہلاکت کا الہام بتایا تھا لیکن فی الواقعہ خود طاعون سے ہلاک ہوئے جب کہ مرزا صاحب کا سارا گھرانہ طاعون سے مکمل طور پر محفوظ رہا۔جب کہ مرزا صاحب کے چاروں طرف طاعون کے زوردار حملے گیارہ سال تک ہوتے رہے اور سینکڑوں دوسرے لوگ ہلاک ہوئے۔منشی صاحب نہ ہی سلامت رہے تا کہ غالب آ سکیں اور جو خدمت ان کے الہام کے مطابق ان کے سپرد ہوئی تھی اسے پورا کر سکیں اور نہ کوئی دوسرا قابل قدر کارنامہ سر انجام دے سکے۔آج یہ حالت ہے کہ اچھے اچھے تعلیم یافتہ لوگوں میں سے شائد ہی کوئی ہو جو نشی الہی بخش صاحب کے نام اور ان کے کسی علمی کارنامے سے واقف ہو۔دوسری طرف مرزا غلام احمد صاحب جن کی ہلاکت کا منشی صاحب نے الہام کی بنا پر دعویٰ کیا تھا ان کی جماعت نہ صرف ختم نہیں ہوئی بلکہ بڑھتی اور پھیلتی ہی جارہی ہے۔۱۸۸۹ء میں بیعت اولی کے دن کل ۴۰ مریدوں نے بیعت کی تھی اور منشی صاحب نے روگردانی کا پہلا قدم اُٹھایا تھا۔۱۹۰۷ء میں منشی صاحب کی وفات کے وقت مرزا صاحب کے مریدوں کی تعداد۴ لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔ہے اور آج ۱۹۸۸ء کے وقت بعض اندازوں کے مطابق ایک کروڑ ہو چکی ہے۔ایک غیر جانبدار قاری کے لئے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہلاک کون ہوا؟ طاعون سے کون مرا؟ غالب کون ہوا؟ کامیابی کی طرف کون گامزن ہے؟ مرزا غلام احمد صاحب یا منشی الہی بخش صاحب اور اخبار اہل حدیث ۱۱ را پریل ۱۹۰۷ء : مرزا غلام احمد قادیانی۔حقیقۃ الوحی۔تتمہ صفحہ ۵۳۸