مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 300
میں سراپا نور قرار دے کر اس کی مدح سرائی میں زمین و آسمان کے قلابے ملا ر کھے تھے تو یہ خبر ان پر بجلی بن کر گری۔مرزا غلام احمد صاحب نے اس موقع پر لکھا کہ ”ہماری وہ پیشگوئی حسین کامی کی نسبت نہایت صفائی سے پوری ہو گئی اور وہ نصیحت جو ہم نے اپنے خلوت خانہ میں اس کو کی تھی کہ تو بہ کروتا نیک پھل پاؤ جس کو ہم نے اپنے اشتہار ۲۴ رمئی ۱۸۹۷ء میں شائع کر دیا تھا اس پر پابند نہ ہونے سے آخر وہ اپنی پاداش کردار کو پہنچ گیا اور اب وہ ضرور اس نصیحت کو یاد کرتا ہوگا مگر افسوس یہ ہے کہ وہ اس ملک کے بعض ایڈیٹران اخبار اور مولویان کو بھی جو اس کو نائب خلیفتہ المسلمین اور رکن امین سمجھ بیٹھے تھے اپنے ساتھ ہی ندامت کا حصہ دے گیا اور اس طرح پر انہوں نے ایک صادق کی پیشگوئی کی تکذیب کا مزہ چکھ لیا۔اب اُن کو چاہیے کہ آئندہ اپنی زبانوں کو سنبھالیں۔کیا یہ سچ نہیں کہ میری تکذیب کی وجہ سے بار بار اُن کو خجالت پہنچ رہی ہے؟ اگر وہ سچ پر ہیں تو کیا باعث کہ ہر ایک بات میں آخر کار کیوں اُن کو شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔- سلطنت ترکی کی پراگندگی اور سلطان عبدالحمید ثانی کی معزولی: -٣ اگر چہ مرزا غلام احمد قادیانی اور سلطنت ترکی یا سلطان عبدالحمید ثانی کے مابین کوئی عداوت یا مخالفت نہ تھی تاہم ہم گزشتہ صفحات میں بیان کر آئے ہیں کہ مرزا صاحب نے جناب حسین کا می صاحب کی درخواست پر کہ آئندہ پیش آنے والے حالات کے : مرزا غلام احمد قادیانی ۱۹۰۲ ء - تریاق القلوب۔ضیاءالاسلام پر لیس قادیان صفحه ۴ ۲۸