مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 281 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 281

۲۸۱ (۲) مرزا غلام احمد صاحب کے ہاتھوں مولوی سید نذیرحسین صاحب اور ان کے ساتھیوں کی یہ کھلی ہزیمت دہلی کے مخالف مسلمانوں کے لئے بڑی تکلیف دہ تھی۔شرفاء نے بھی اس بات کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا کہ ایک علمی اور خالصتا مذ ہبی بحث کی دعوت دینے والے کو جواب میں پتھر ، گالیاں اور استہزا دیا گیا۔انہی میں علی جان والے بھی شامل تھے جو عقید تا اہل حدیث تھے۔اُن کا خیال تھا کہ اگر حیات مسیح جیسے عقیدے پر بحث کرنے کے لئے کوئی بھی اہل حدیث عالم مرزا صاحب کے مقابلے پر نہ آیا تو اس عقیدے کو شدید ضعف پہنچے گا اس لئے انہوں نے دہلی کے علماء سے مایوس ہو کر ضلع بدایوں کے ایک مشہور اور جید عالم مولوی محمد بشیر صاحب کو مرزا غلام احمد صاحب کے ساتھ حیات مسیح پر مباحثے کے لئے تیار کیا۔مولوی صاحب موصوف ، مولانا سید محمد احسن صاحب امروہی کے ساتھ نواب صدیق حسن خان آف بھوپال کے قائم کردہ اشاعتی ادارے سے منسلک تھے۔وفات مسیح کے مسئلہ پر مرزا صاحب نے ۱۸۹۰ء میں جب خدا تعالیٰ سے الہام کی بنا پر اظہار خیال کیا تھا تو اس وقت سے ہی دونوں علماء کے درمیان مبادلہ خیالات ہوتا رہتا تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مولانا سید محمد احسن صاحب امروہی تو مرزا غلام احمد صاحب کی بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے لیکن مولوی سید محمد بشیر صاحب عوام کی ناراضگی کے خوف سے ایسا نہ کر سکے۔بالآ خر مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اور مولوی محمد بشیر صاحب کے درمیان دہلی ل : مباحثه الحق دہلی ۱۹۰۵ء مطبع ضیاء الاسلام۔قادیان صفحات ۹۴-۹۵