مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 263 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 263

۲۶۳ نامنہی ، بے ذوقی اور کسی قدر عموماً اہل اللہ اور اہل باطن سے گوشہ عصبی تھا۔مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کے خیال میں لدھیانہ کے کچھ علماء کی طرف سے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی مخالفت کی کچھ وجہ یہ بھی تھی کہ وہ روپیہ جولدھیانہ کے مسلمان عوام کی طرف سے ان علماء کو برائے تعمیر مدرسہ ملنے کی توقع تھی وہ مرزا غلام احمد صاحب کی خدمت میں برائے طبع واشاعت براہین احمدیہ پیش کر دیا گیا۔بحرحال یہ علماء مرزا غلام احمد صاحب کے خلاف تکفیر کا فتویٰ لکھ کر دیو بند اور گنگوہ کے اسلامی مدرسوں میں پہنچے تا کہ وہاں کے علماء کے اس پر تصدیقی دستخط حاصل کر سکیں لیکن کوئی ایک عالم بھی ان کی اس تکفیر میں ملوث ہونے کے لئے تیار نہ ہوا اور یہ علماء کا گروہ بے مرا د واپس ہوا۔اس وقت سے لے کر آج تک مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی مسلمان علماء کی طرف سے مخالفت جاری ہے لیکن مرزا صاحب کے پیروکاروں کی تعداد بھی دن بدن بڑھ رہی ہے۔مرزا صاحب کے مخالفین میں سے آریوں ، برہمو سماج والوں، عیسائیوں اور کچھ اقرباء کا تذکرہ گزشتہ ابواب میں آچکا ہے۔مرزا صاحب کے مخالف مسلمان زعما میں ہر طبقے کے لوگ شامل تھے۔کچھ اپنی دنیاوی طاقت ، جاہ و جلال اور اثر و رسوخ کی بنا پر مرزا صاحب کو زک پہنچانے کے درپے ہوئے ، کچھ پیر وسجادہ نشین تھے اور لاکھوں مریدوں کے روحانی پیشوا ہونے کے دعویدار تھے اور انہیں تعلق باللہ کا گمان تھا کچھ اپنی علمی قابلیت ، فصاحت بیان یا حسب نسب پر نازاں تھے۔غرضیکہ مرزا صاحب کو براہین احمدیہ کی تصنیف کے بعد کی ۲۸ سالہ زندگی میں غیر مسلموں کے : مولوی محمد حسین بٹالوی - اخبار اشاعۃ السنہ جلدے حصہ ۶ صفحات ۱۷۰-۱۷۱