مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 256
۲۵۶ وعدہ دیا گیا ہے اور کسی کی مجال نہیں جو اس کو رڈ کر سکے کہ مجھے میرے خدا کی قسم ہے کہ یہی بات سچ ہے۔اس امر میں نہ کچھ فرق آئے گا اور نہ یہ امر پوشیدہ رہے گا اور ایک بات پیدا ہو جائے گی جو تجھے تعجب میں ڈالے گی یہ اس خدا کی وحی ہے جو بلند آسمانوں کا خدا ہے۔میرا رب اُس صراط مستقیم کو نہیں چھوڑتا جو اپنے برگزیدہ بندوں سے عادت رکھتا ہے اور وہ اپنے ان بندوں کو بھولتا نہیں جو مدد کرنے کے لائق ہیں۔سو تمہیں اس مقدمہ میں کھلی کھلی فتح ہو گی مگر اس فیصلے میں اس وقت تک تاخیر ہے جو خدا نے مقرر کر رکھا ہے ۴۔مقدمے کی روداد اور انجام : اگر چہ الہام بالکل واضح تھا لیکن بظاہر اس کے تقاضوں کے پورا ہونے کی کوئی توقع نہ تھی۔دوسری طرف مرزا امام الدین صاحب کو ہر ایک پہلو سے یہ خبریں مل گئی تھیں کہ قانون کی رو سے اس مقدمہ مرزا غلام احمد صاحب کی کامیابی کی کوئی سبیل نہیں بلکہ مرزا امام الدین صاحب دعوے سے کہتے تھے کہ مقدمہ عنقریب خارج ہو جائے گا بلکہ یہی سمجھو کہ خارج ہو گیا۔اسی نا اُمیدی اور سراسر مخالف حالات میں مقدمے کی کاروائی کم و بیش ڈیڑھ سال تک چلتی رہی یہاں تک چچا زاد بھائیوں کو عدالت میں درخواست پر مرزا غلام احمد صاحب کو ۱۵ار جولائی ۱۹۰۱ء کو بہت سے دلی محبوں کے ہمراہ گورداسپور جانا پڑا جہاں آپ نے ۱۶ جولائی ۱۹۰۱ء کو ڈسٹرکٹ جج کے سامنے ذاتی ل : مرزا غلام احمد قادیانی - الہام اخبار الحکم ۲۴ جنوری ۱۹۰۰ء صفحه ۱۰