مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 233
۲۳۳ کی پیشگوئی مورخہ ۲۳ / اگست ۱۹۰۳ء کے عین مطابق ڈاکٹر ڈوئی کو صیحون ، اپنے چرچ اور اپنی موت تینوں کا سامنا تھا۔ستمر ۱۹۰۵ء میں فالج کے حملہ کے بعد ڈوئی نے آسٹریلیا سے اپنے نائب والوا کو بلا لیا اور اپنی صیحون کی جائداد کے سارے قانونی اختیارات اس کے نام کر دیئے اور خود بحالی صحت کے لئے جمیکا روانہ ہو گیا۔اس کی روانگی کے فوراً بعد اس کے اخبار لیوز آف ہیلنگ کے مدیروں نے اس کی من مانی کاروائیوں کو احتجاجاً ماننے سے انکار کر دیا۔صحون کے دوکانداروں نے صیحون کی انتظامیہ کے جاری کردہ کو پنوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ڈوئی کے خزانے میں ادائیگی کے لئے ڈالر موجود نہ تھے۔فنڈ ز کی نایابی کے باث اخبار لیز آف ہیلنگ بند کر دیا گیا۔ڈاکٹر ڈوئی کے آسٹریلین نائب مسٹر ولبر گلین والوا نے ۱۲رفروری ۱۹۰۶ء کو میچون پہنچ کر جو حالت دیکھی اس کا اسے تصور بھی نہ تھا۔سب سے زیادہ اذیت ناک حالت ان بوڑھی عورتوں ، مردوں، نابینا اور لولے لنگڑے افراد کی تھی جو اپنی ہزاروں ڈالر کی رقمیں میحون کی صنعتوں میں لگا چکے تھے لیکن ان کی رقمیں ڈوب چکی تھیں اور وہ فاقہ کشی کی زندگی گزار رہے تھے۔ان حالات کے باوجود ڈاکٹر ڈوئی کو اصلاح احوال کی فکر نہ تھی۔۳۱ / مارچ ۱۹۰۶ء کو اس نے اپنے نائب اور جانشین والوا کو بذریعہ تار اس کے منصب سے برطرف کر دیا۔اسی روز میحون کی انتظامی کیبنیٹ نے اور اگلے روز یعنی یکم اپریل ۱۹۰۶ء کو اس کے ہزاروں مریدوں نے اپنے مشترکہ جلسے میں متفقہ طور پر ڈاکٹر ڈوئی کو غرور، تعلّی ، فضول خرچی، عیاشی اور لوگوں کی رقموں پر پر تعیش زندگی بسر کرنے کا مجرم قرار دیا۔صیحون کی انتظامی کینیٹ نے ڈاکٹر ڈوئی کو ایک جوابی تار دے کر اس کی