مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 232
۲۳۲ سارے نائبین اس سے ناراض ہو گئے۔اخراجات کے بے انتہا بڑھ جانے اور آمدنی کے توقعات کے مطابق نہ ہونے سے صیحون کی مالی حالت دن بدن خراب ہوتی جارہی تھی دفاتر اور اور فیکٹریوں کے عملہ میں دن بدن کمی کی جارہی تھی۔اور صحون کی دوکانیں مال و اسباب سے خالی ہو رہی تھیں ڈاکٹر ڈوئی نے سوچا کہ اگر چندہ جمع کر کے میکسیکو میں زمینیں خرید لی جائیں تو ان کی آمدنی سے صیحون کی مالی مشکلات دور ہو جائیں گی لیکن اس کی چندے کے لئے پہلی اپیل مایوس کن ثابت ہوئی چنانچہ اس نے ستمبر ۱۹۰۵ء کے آخری اتوار کے دن صیحون میں ایک زبر دست جلسہ کیا۔ابھی یہ رعب و داب والی تقریب ختم نہیں ہوئی تھی کہ ڈاکٹر ڈوئی پر فالج کا پہلا حملہ ہوا، اُس کا رنگ زرد پڑ گیا، وہ گرنے ہی والا تھا کہ اس کے دومریدوں نے اسے سہارا دیا اور اسے گھسیٹتے ہوئے جلسہ گاہ کے ہال سے باہر لے گئے۔یہ وہی ڈوئی تھا جس نے تین ہی سال قبل اپنے متعلق لکھا کہ (ترجمہ) د میں ایک نہ تھکنے والے دماغ کا مالک ہوں اور میراجسم ایک صحت مند جسم ہے۔مجھے یقین ہے کہ دنیا میں ایسے شخص کم ہی ہوں گے جو میرے ہم عمر ہوں اور میری طرح کا کام کرتے ہوں اور پھر اُتنے قوی بھی ہوں جتنا کہ میں۔“ VI - ڈاکٹر ڈوئی کی چرچ سے برطرفی: اب حالات ڈاکٹر ڈوئی کے ہاتھ سے نکلتے جارہے تھے۔مرزا غلام احمد قادیانی : لیوز آف ہیلنگ ۲۰/ دمبر ۱۹۰۳ء- ( خلیل احمد ناصر - ۱۹۵۴- عبرتناک انجام صفحه ۱۰۶)