مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 173
۱۷۳ حریف سے باضابطہ مچلکہ لکھوا سکتے تھے۔ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک اور دوسرے عیسائیوں نے انہیں بار بار اس طرف توجہ بھی دلائی مگر چونکہ اُن کا دل جانتا تھا کہ سانپوں اور نیزے والوں کے ان نظاروں میں کسی انسان کا دخل نہیں اس لئے انہوں نے اس کے جواب میں دونوں ہاتھ کان پر رکھے۔عیسائیوں نے جب یہ حال دیکھا تو انہوں نے انہیں شراب پلا پلا کر مد ہوش رکھنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ پایا۔اسی دوران میں ہاویہ سے متعلق پیشگوئی کی میعاد کا آخری دن آ گیا۔اس دن آتھم صاحب کی کوٹھی کے پہرہ کا انتظام جس انسپکٹر پولیس کے سپر د تھا اس نے بعد کو بیان کیا کہ کوٹھی کے اندر آتھم صاحب کے دوست پادری وغیرہ تھے اور باہر چاروں طرف پولیس کا پہرہ تھا۔اُس وقت آتھم صاحب کی حالت سخت گھبراہٹ کی تھی۔اتفاقاً باہر دور سے کسی بندوق کے چلنے کی آواز آئی اس پر آتھم صاحب کی حالت یکدم دگرگوں ہونے لگی۔آخر جب اُن کا کرب اور گھبراہٹ انتہاء کو پہنچ گئی تو ان کے دوستوں نے ان کو بہت زیادہ شراب پلا کر بے ہوش کر دیا۔وہ آخری رات آتھم صاحب نے اس حالت میں گزاری۔صبح ہوئی تو ان کے دوستوں نے ان کے گلے میں ہار پہنائے اور ان کو گاڑی میں بٹھا کر جلوس نکالا۔اس دن لوگوں میں شور تھا کہ پیشگوئی جھوٹی نکلی مگر ہم سمجھتے تھے کہ جو حالت ہم نے آتھم صاحب کی دیکھی ہے اس سے تو اُن کا