مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 109
1+9 کھل گیا اور دونوں نے ایک دوسرے کے متعلق خدا سے ملنے والے الہامات اور دوسرے اعلانات اخبارات میں شائع کروانے شروع کر دیئے یہاں تک کہ اس غیر معمولی مقابلے کی طرف جس میں باہمی تحریری رضا مندی سے اسلام اور آریہ مذہب کی سچائی کا فیصلہ ہونا تھا سارے ہندوستان کے مسلمانوں اور ہندوؤں اور دنیا بھر کے مذہبی حلقوں کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ہم اختصار کے ساتھ باری باری مرزا صاحب اور پنڈت صاحب کے بیانات اور جواب نیچے درج کر رہے ہیں۔مرزا غلام احمد صاحب : مرزا صاحب نے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کو ایک الہامی پیشگوئی شائع کی جس میں اپنی کامیابی اور مخالفین کی ناکامی کا عمومی تذکرہ تھا اور اسی دن ایک اشتہار شائع کیا جس میں پنڈت لیکھرام صاحب وغیرہ سے ان کے بارے میں انذاری خبر شائع کرنے کی اجازت طلب کی۔مرزا صاحب کی طویل پیشگوئی کے کچھ اقتباسات درج ذیل ہیں : میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں اسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا۔۔۔فضل اور احسان کا نشانہ تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے۔تادین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تا حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آ جائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور