مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 91
۹۱ ہے لے کہ مرزا صاحب کے زبردست علمی مضامین نے نہ صرف عام پڑھے لکھے آریوں بلکہ ان کے لیڈروں کے ویدک دھرم پر اعتقادات کو بھی متزلزل کر دیا تھا اور خودسوامی دیانند صاحب بھی مرزا صاحب کے زبردست اعتراضات کے باعث بار بار اپنے عقائد کو تو جیہات بدلتے رہتے تھے۔جسے بعض روشن خیال ہندو ان کی متلون مزاجی کا نام دیتے تھے اور حقیقت تو ہے کہ آریہ سماج کے اندرونی اختلافات بھی مرزا صاحب کے زبر دست علمی اور منطقی دلائل کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے۔پنڈت شیونرائن اگنی ہوتری کے مطابق تو مرزا صاحب کے دلائل کے سامنے تو آریہ عقائد محض ” بے ہودہ اور لغو نظر آتے تھے اور ان کو تسلیم کرنا آفتاب نیمروز کی روشنی میں اندھوں کی طرح حرکت کرنے کے مترادف تھا۔ہے II- مرزا صاحب اور آریہ سماجی لیڈر ماسٹر مرلی دھر کے درمیان مباحثه پچھلے صفحات پر بیان کردہ واقعات سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ مرزا صاحب کے مدلل مضامین سے آریہ سماجی لیڈر عملی طور پر کمزور پڑ رہے تھے اور پنڈت شیو نرائن اگنی ہوتری کے تبصروں سے آریہ سماج کی صفوں میں کھلبلی مچی ہوئی تھی لیکن اکثر آریوں کو مرزا صاحب کی وسعت مطالعہ اور عقلی اور نقلی دلائل کی صلاحیت کا ابھی ذاتی تجربہ نہ تھا۔اسی کشمکش کے دوران مرزا صاحب اور ایک آریہ سماجی لیڈر ماسٹر مرلی دھر رسالہ جیون دھر - ۱۵ / جولائی ۱۸۸۶ء : اخبار برادر ہند۔جولائی ۱۸۷۸ء