مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page xi
اضحال کی حکمرانی ہے۔یہ کیونکر ہے اور وسیع پیمانے پر اسلامی معاشروں میں جو بے را ہروی ، دین سے بیگانگی اور اخلاقی گراوٹ کا دور دورہ ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ ایک بات پر سبھی متفق ہیں کہ اس کی اصل وجہ مسلمانوں کی طرف سے قرآنی تعلیم سے انحراف ہے۔فطرت کی تعزیروں سے کوئی بالا نہیں اور خدا اپنی سنت کو بھی کبھی تبدیل نہیں کرتا۔مسلمان معاشروں کی یہ درد ناک کیفیت کسی حد تک متوقع بھی ہے۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثوں میں یہ پہلے سے موجود ہے کہ مسلمانوں پر ایک وقت آئے گا کہ وہ قرآن کو لاوارث کی طرح چھوڑ دیں گے ، ایمان ثریا پر پہنچ جائے گا یعنی مسلمانوں سے بہت دور چلا جائے گا، قرآن کے صرف الفاظ رہ جائیں گے، اس کے ماننے والوں میں سے اس کی روح ختم ہو جائے گی ، قرآن اس کے پڑھنے والوں کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور دل پر اثر انداز نہیں ہوگا۔یہی زمانہ مسلمانوں کے لئے روحانی تنزل کا زمانہ ہوگا اور تمام وہ برائیاں جس نے یہودیوں کو گمراہی کی راہ پر ڈالا وہ مسلمانوں میں پیدا ہو جائیں گی۔آج مسلمان معاشرے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حرف بحرف صحیح ثابت کر رہے ہیں۔اسی صورت حال کی ایک حد تک تصویر کشی علامہ اقبال کے اس شعر میں ملتی ہے۔وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود مسلمان ہو جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے پچھلی صدی کے آخری سالوں میں یہ دعویٰ کیا کہ امت محمدیہ کی بگڑی ہوئی دینی حالت کو از سر نو درست کرنے اور اسلام کو ایک دفعہ پھر دنیا میں مضبوط بنیادوں پر قائم کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے انہیں مسیح موعود اور