مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page x of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page x

تمهية جوں جوں سائنسی ترقی کے نتیجے میں انسانوں کی زندگی میں آسانی اور خوشحالی بڑھتی جا رہی ہے انسان خدا کو بھولتا جا رہا ہے۔خدا کے وجود کے منکرین یا دہریے تو کلیۂ مذہب یا روحانیت کے قائل ہی نہیں لیکن مخلتف مذاہب کے پیروکاروں کی اکثریت نے بھی خدا اور اس کے انبیا کی اطاعت کو اپنی عملی زندگی سے بے دخل کر رکھا ہے حالانکہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ موجودہ زمانے کے مہذب معاشروں کی اخلاقی اور قانونی بنیادوں کے ماخذ مذاہب ہی ہیں۔اسلامی ممالک میں بسنے والے بھی اس عالمی طرز عمل سے الگ تھلگ نہیں۔اسی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمان عمائدین،اسلامی معاشروں میں پائے جانے والے انحطاط پر اپنے رنج و غم کا بار بار اظہار کرتے رہتے ہیں۔قدیم مذہب مثلاً بدھ مت، ہندومت، یہودیت یا عیسائیت کی حد تک تو ایک مسلمان سمجھ سکتا ہے کہ یہ مذاہب محدود زمانوں اور محدودقوموں کے لئے تھے اس لئے ان کی تعلیمات کا اپنے زمانے کی ضروریات پوری کرنے کے بعد معطل ہونا فطری امر تھا۔ان مذاہب کے ماننے والوں نے اگر بدلے ہوئے حالات میں خدا کے فرستادوں کو نہیں پہچانا اور اپنے مسلک پر اڑے رہے تو ان کے اندرٹوٹ پھوٹ ، پراگندگی اور روحانی کمزوری ہونا بھی ضروری تھا۔لیکن اسلام کے نزول کے بعد اور قرآن جیسے مکمل ضابطہ حیات کے ہوتے ہوئے مسلمانان عالم میں جو تنزل ، شکست خوردگی اور