مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 85
۸۵ نے حسب وعدہ لالہ شرمیت صاحب کا مضمون اپنے رسالہ میں تو شائع کر دیا لیکن انہوں نے بطور منصف اس مضمون پر جو ادارتی تبصرہ کیا اس سے لالہ شرمپت صاحب کی ذاتی لیاقت کا بھی بھانڈا پھوٹا اور اہل علم کی نظر میں آریہ سماج کی وقعت بھی گر گئی۔پنڈت شیو نرائن کے تبصرے کے کچھ اقتباسات ملاحظہ ہوں۔باوجود اس کے کہ ہم نے مرزا صاحب کے مضمون کا پہلا حصہ اپنے اپریل کے رسالے میں ختم کر دیا تھا اور یہ یقین کیا تھا کہ اثبات دعوی کے لئے جس قدر دلائل وہ اس مضمون میں رقم کر چکے ہیں بخوبی کافی ہیں مگر انہوں نے اسی پر اکتفا نہیں کیا اور ایک دوسرا حصہ اور تیار کر کے ہمارے پاس چھپنے کے لئے بھیج دیا۔اس حصہ کو ہم نے ہنوز رسالہ میں درج نہیں کیا بائیں خیال کے جو دلائل مرزا صاحب پہلے حصے میں مشتہر کر چکے ہیں اگر انہیں کے رڈ کے لئے اہل آریہ تیار ہیں ہیں تو پھر مضمون مذکورہ کو اور زیادہ دلائل کے ساتھ طول دینا بالفعل کچھ ضرور نہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری اُمید بالکل خالی نہیں گئی۔لالہ شرمپت صاحب نے جو آریہ سماج قادیان کے سیکرٹری ہیں ایک مضمون اثبات تناسخ پر ہمارے پاس برادر ہند میں مشتہر کرنے کے لئے بھیجا ہے چنانچہ اسے ہم درج رسالہ کرتے ہیں۔کس حیثیت کا وہ مضمون ہے اور اس کا نفس مضمون کس سانچہ کا ڈھلا ہوا ہے اور اس کی طر ز عبارت سے راقم مضمون کی ذاتی لیاقت اور فضیلت کا کہاں تک اظہار ہوتا ہے اور اصول مناظرہ سے اس کا ڈھنگ بیان کہاں تک موافق یا ناموافق ہے اس کا