مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 41
اسی دوران مرزا صاحب نے ۱۸۹۰ء میں واضح طور پر الہام الہی کی بنیاد پر یہ انکشاف کیا کہ حضرت مسیح ناصری جن کو مسلمانوں نے آسمان پر زندہ سمجھ رکھا ہے اور جن کے متعلق وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آخری زمانہ میں وہ اپنے خا کی جسم کے ساتھ دوبارہ دنیا میں واپس تشریف لائیں گے وفات پاچکے ہیں اور ان کے مثیل کی شکل میں آپ کو دنیا کی ہدایت اور اسلام کی اشاعت کے لئے مبعوث فرمایا گیا ہے تو عیسائیوں اور مسلمانوں کی طرف سے اس نظریہ کی مخالفت کا طوفان اُٹھ کھڑا ہوا۔مرزا صاحب نے اپنے نظریات کو تعلیم یافتہ طبقے کے سامنے نہایت مدلل طریقے سے پیش کرنے کے لئے یکے بعد دیگرے زبر دست لٹریچر شائع کیا جن میں فتح اسلام (۱۸۹۱ء)، چشمہ مسیحی (۱۹۰۶ء) اور نزول مسیح (۱۹۰۹ء ) جیسی تصنیفات بھی شامل تھیں۔اس سے عیسائیت کی پوری عمارت متزلزل نظر آنے لگی جو عیسائیوں کے لئے نا قابل برداشت تھا۔چونکہ اس وقت انگریزی کی حکومت پورے جاہ وجلال کے ساتھ ہندوستان میں قائم تھی اور انگریزی اور ہندوستانی نژاد پادری حکومت کے ایوانوں میں گہرے اثر و رسوخ کے حامل تھے اس لئے انہوں نے مرزا صاحب کے خلاف ایک زبر دست محاذ بنالیا اور آپ کو ہر طرح سے آزار پہنچانے میں مصروف ہو گئے۔آپ کو کئی مقدمات میں پھنسا کر خوار کرنے کی سعی کی گئی۔اس بات کے باوجود کہ بہت سے مسلمان زعما مرزا غلام احمد صاحب کے اسلام کی حمایت کے بے پناہ جوش و جذبے کی وجہ سے آپ کو زبر دست خراج عقیدت پیش کر چکے تھے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مرزا صاحب کی سب سے زیادہ اور مسلسل مخالفت بھی مسلمان علماء کی طرف سے کی گئی۔ہندوستان کے طول وعرض سے جن میں