مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 42
۴۲ دلی ، آگرہ، حیدر آباد دکن، بنگال، کانپور ، علی گڑھ ، بنارس ، اعظم گڑھ ، آرہ ، لکھو کے غازی پور، ترہٹ، بھوپال، لدھیانہ، امرتسر، سوجان پور، لاہور ، بٹالہ، پٹیالہ (فیروز پور ) ، پشاور ، سوات، راولپنڈی، ہزارہ، جہلم، گجرات، سیالکوٹ ، وزیر آباد، سوہدرہ، کپورتھلہ ، گنگوہ ، دیو بند ، سہارنپور لکھنو ، پٹنہ، مراد آباد، غرضیکہ ہندوستان کے تمام اہم مقامات کے علماء نے مرزا صاحب کے کفر، ارتداد اور خارج از اسلام کے فتوے دیئے اور آپ کی ناکامی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔یہ مخالفت آج تک جاری ہے۔یہاں تک کہ ۱۹۷۴ء میں علماء کی ایک ملک گیر متشددانہ تحریک کے بعد حکومت پاکستان نے مرزا غلام احمد صاحب اور آپ کے پیروکاروں کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کا قانون پاس کر دیا۔یادر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں اُمت کے علماء کو بنی اسرائیل کے انبیا کی طرح قرار دیا۔وہاں بعض علماء کو روئے زمین پر بدترین مخلوق بھی قرار دیا حضرت شیخ محی الدین ابن عربی اور حضرت شیخ احمد سرہندی مجددالف ثانی کے اقوال ہیں کہ جب امام مہدی مبعوث ہوں گے تو ان کے شدید ترین مخالف علماء اسلام ہی ہونگے۔