مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 321
۳۲۱ - سنتے رہے۔جب نماز ختم ہوئی تو راجہ غلام حیدر خاں صاحب تحصیلدار پٹھان کوٹ کو بلا کر پوچھا کہ آپ کی ان لوگوں سے واقفیت سے ہے؟ انہوں نے عرض کی کہ ہاں۔کہا کہ میں نے ان لوگوں کو نماز میں قرآن پڑھتے سنا ہے۔میں اس قدر متاثر ہوا ہوں کہ حد سے باہر ہے۔اس قسم کا ترنم اور اثر میں نے کسی کلام میں نہیں سنا اور نہ کبھی محسوس ہوا کیا پھر بھی یہ نماز پڑھیں گے اور مجھے نزدیک سے سننے کا موقع دیں گے؟ راجہ غلام حیدر صاحب حضرت اقدس (مرزا غلام احمد - ناقل ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کل ماجرا عرض کیا۔آپ نے فرمایا۔ہمارے پاس بیٹھ کر قرآن سنیں۔چنانچہ اب کی دفعہ نماز کے وقت ایک کرسی قریب بچھا دی گئی اور صاحب بہادر اس پر آ کر بیٹھ گئے۔نماز شروع ہوئی اور مولوی عبدالکریم صاحب نے قرآن پڑھنا شروع کیا اور صاحب بہادر مسحور ہو کر جھومتے رہے ! نہ صرف مولوی محمد حسین بٹالوی اسے سارے قضیے کے دوران خائب و خاسر رہے بلکہ یہ مقدمہ ہر لحاظ سے مرزا صاحب کے لئے پذیرائی ، عزت افزائی اور الہی بشارتوں کے پورا ہونے کی نوید لے کر ساتھ آیا۔مولوی صاحب کے اپنے ہاتھ بھی کٹ گئے کہ انہیں تکفیر بازی کے مشغلے سے حکماً روک دیا گیا بلکہ یہی حال مولوی صاحب کے ساتھیوں جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی کا ہوا۔ان کی قلمیں بھی ایسی ٹوٹیں کہ پھر خبر ہی نہ لگی ے: ڈاکٹر بشارت احمد مجدد اعظم۔حصہ اوّل صفحہ ۶۰۶ ( تاریخ احمدیت۔جلد سوم صفحه ۵۵)