مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام

by Other Authors

Page 285 of 439

مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 285

۲۸۵ کہ ان بزرگوں پر ایسا الزام رکھ سکے جن کے گھر سے ہی نخونکلی ہو۔ظاہر ہے کہ نحو کو ان کے محاورات اور ان کے فہم کے تابع ٹھہرانا ہو گا نا کہ اُن کی بول چال اور ان کے فہم کا محک اپنی خود تراشیدہ نحو کوقرار دیا جائے۔“ VI - مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کی طرف سے مخالف علماء کو میا ملے کی پہلی دعوت : اب تک مرزا غلام احمد صاحب قادیانی اپنے دعاوی (باب دوئم ) کی سچائی ثابت کرنے کے لئے علماء سجادہ نشینوں اور دیگر مکفرین کو مباحثوں کی دعوت چلے آرہے تھے لیکن بہت سے مولوی صاحبان مرزا صاحب کو مسلسل کا فر کہتے رہتے تھے۔چنانچہ مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے پہلی دفعہ ۱۰ دسمبر ۱۸۹۲ء کو بذریعہ اشتہار ایسے تمام علماء خصوصاً مولوی نذیر حسین دہلوی، مولوی محمد حسین بٹالوی اور دیگر سرکردہ مولوی صاحبان کو مباہلے کی درخواست کی اور اُن کو دسمبر ۱۸۹۲ء سے چار ماہ کی مہلت دی تا کہ اس دوران وہ مباہلہ کے لئے شرائط طے کر لیں۔مرزا غلام احمد صاحب نے یہ دعوت مباہلہ فرداً فرداً تمام مکفر علماء کو بھیجی لیکن ہزاروں علماء میں سے صرف مولوی عبدالحق صاحب غزنوی اور مولوی محمد حسین بٹالوی چند شرائط پر مباہلے کے لئے تیار ہوئے۔مباہلے کے لئے ۲۷ مئی ۱۸۹۳ ء کا دن امرتسر کا عید گاہ کا میدان ، متصل مسجد خان بہادر حاجی محمد شام قرار پایا۔چنانچہ مرزا صاحب نے امرتسر کے مسلمانوں کو : الحق مباحثہ۔دہلی ۱۹۰۵ء صفحات ۷ ۷-۷۸