مخالفین حضرت مسیح موعود ؑ کا انجام — Page 88
۸۸ اس دوران سوامی دیانند کو نام لے کر بھی بار بار مقابلے کی دعوت دی جا چکی تھی لیکن ان سے کچھ جواب نہیں بن پڑ رہا تھا یہاں تک کہ سوامی صاحب مجبور ہو گئے کہ وہ مرزا صاحب کے سامنے اپنے عقائد میں ترمیم کریں۔بلاشبہ ان کی طرف سے اپنی غلطی کا کھلا اعتراف اسلام اور آریہ سماج کی جنگ میں مرزا غلام احمد صاحب کی ایک اور واضح فتح تھی۔پنڈت شیو نرائن اگنی ہوتری نے اپنے اخبار میں سوامی دیانند کے و یدک دھرم کے عقائد سے اس انحراف پر زور دار تبصرہ کیا۔اس کے کچھ اقتباسات ملا حظہ ہوں۔ان کے مقلد یقین کر کے اور وید کو خدا کا کلام مان کر اندھا دھند جو کچھ سوامی صاحب کے منہ سے سن لیتے ہیں خواہ وہ کیسا ہی علم و عقل کے مخالف ہومگر اس کے پیرو ہو جاتے ہیں۔چنانچہ چند ماہ سے بعض آریہ سماج کے لائق ممبروں اور ہمارے رسالہ کے مضمون نگار صاحب کے درمیان کچھ مباحثہ جاری ہے اس سے ہمارے ناظرین بخوبی واقف ہیں۔سوامی صاحب کے مقلد باوجود خدا کے قائل ہونے کے سوامی جی کی ہدایات کے موافق یا یوں کہو کہ وید کے احکام کے موافق اپنا یہ یقین ظاہر کرتے ہیں کہ ارواح بے انت یعنی لا انتہا ہیں اور خدا ان کا پیدا کرنے والا نہیں اور جب سے خدا ہے تب سے ارواح بھی ہیں یعنی وہ انادی ہیں اور نیز خدا کو ارواح کی تعداد کا علم نہیں ہے ماسوائے کسی روح کو نجات ابدی حاصل نہیں ہوتی اور وہ ہمیشہ تناسخ یعنی اواگون کے سلسلہ میں مبتلا رہتی ہے۔مگر اب ہمارے مضمون نگار مرزا غلام احمد صاحب