معجزات القرآن

by Other Authors

Page 95 of 126

معجزات القرآن — Page 95

187 اور پھر ان میں بعض سواریاں ایسی بھی ہیں جن میں نہایت آرام دہ تکیے لگے ہوئے ہیں اور صرف تکیے ہی نہیں بلکہ اگر لیٹنا چاہیں تو نرم نرم بچھو نے بھی موجود ہیں اور اگر سامان رکھنا چاہیں تو تختے اور پڑ چھتیاں موجود ہیں اور اگر شہروں کے اندر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا چاہیں تو دو منزلہ لوکل بسیں موجود ہیں اور اگر سمندری سفر کریں تو دو منزلے سہ منزلے جہاز موجود ہیں اور اگر فضائی سفر کرنا چاہیں تو خَاطِفُ ظله یعنی جن کے سایہ کا نگاہ تعاقب نہ کر سکے ، برق رفتار طیور یعنی ہوائی جہاز موجود ہیں۔سو یہ علیم و خبیر خدا ہی کی شان ہے کہ جس نے ایک رفرف کے لفظ میں تمام سواریوں کا نقشہ پیش فرما دیا ہے۔ވ ވ ވ މ اس موقع پر یہ امر قابل وضاحت ہے کہ یہ رفرف اس دنیا کی ہے اور یہ دنیا کافروں کی جنت ہے۔لہذا اس رفرف میں کافر و مومن ہر دو شریک ہیں لیکن بعد از موت جو رفرف ہوگی وہ صرف مومنوں کیلئے مخصوص ہوگی۔نیز لفظ خُضر سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ میں سبز رنگ خصوصی حیثیت اختیار کر جائے گا۔(2) رفرف کے بعد دوسرا لفظ ھدھد ہے۔یہ لفظ بھی اپنے اندر بڑی وسعت رکھتا ہے۔لغت میں ھدھد کے معنی دَوِيُّ الْبَحْر اور أَصْوَاتُ الْجِنَّ کے لکھے ہیں یعنی سمندر کی گونج اور ایسی آوازیں جو سنائی تو دیں لیکن بولنے والے سامنے نہ ہوں۔اسی بنا پر ایک ایسے پرندے کا نام ڈھڈ رکھا گیا ہے جس کی عادت ہے کہ وہ درختوں کے پتوں میں چھپ کر اپنی چونچ کو اس طرح مارتا رہتا ہے جس طرح کہ چکی کوٹھنگو رنے والا لوہے کی منقار سے چکی کی پاٹ کوٹھنگو رتا ہے اسی لئے پنجاب کے بعض علاقوں میں اُدھر کو چکی را کہتے ہیں اور بعض علاقوں میں ” ترکھان پاکبھی کہتے ہیں اور ایسے ہی ھدھد کے متعلق اقرب میں لکھا ہے كُنْيَتُه ابو الاخبار یعنی ھدھد کی کنیت ابو الاخبار بھی ہے یعنی خبریں پہنچانے والا اور پھر “ ود 188 لکھا ہے کہ عرب لوگ کسی شخص کی بصارت اور تیز نگاہی کی تعریف کرنا چاہیں تو اس کے متعلق کہتے ہیں فُلانٌ أَبْصَرُ مِنْ هُدُهُد یعنی فلاں شخص ھدھد سے بڑھ کر تیز نگاہ ہے اور یہ بات عرب لوگ اس بنا پر کہتے ہیں کہ ھدھد کے متعلق ان کا خیال ہے کہ زمین اس کیلئے شیشے کی طرح ہے اور وہ زمین کے نیچے کے پانی کو دیکھ لیتا ہے۔لفظ ھدھد کے ان جملہ اوصاف کے پیش نظر معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے مخالفوں کے ارادوں اور اُن کی سازشوں سے باخبر رہنے کیلئے ایک ایسا محکمہ قائم فرمایا ہوا تھا جو نہایت تیز رفتاری سے ان کو دشمن کی خبریں خفیہ طور پر پہنچاتا رہتا تھا اور انہیں یہ اطلاعات ایسے خفیہ انداز میں ملتی تھیں کہ خود آپ کے ساتھ رہنے والے لوگوں کو بھی معلوم نہ ہوسکتا تھا کہ یہ اطلاعات کیونکر پہنچتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ کہتے تھے کہ حضرت سلیمان نے جنات کو مسخر کیا ہوا ہے جو آپ کو خبریں پہنچاتے ہیں۔حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس محکمہ کو پوشیدہ رکھنے کیلئے یہاں تک احتیاط فرمائی ہوئی تھی کہ اس محکمہ کے افسر کا نام اپنی پر حکمت اور مناسب حال اصطلاح کے مطابق هُدهُد رکھ چھوڑا تھا۔لہذا حضرت سلیمان علیہ السلام کے طیر اور ھدھد سے مراد وہ شعبہ ہے جس کا کام پوشیدہ طور پر اطلاعات حاصل کرنا اور آپ تک پہنچانا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اس حقیقت کا قرآن شریف میں اس لئے ذکر فرمایا ہے تا کہ بتایا جائے کہ ایک وقت ایسا بھی آنے والا ہے کہ اسلام اور خدام اسلام کی خدمت بجالانے کیلئے کچھ ایسی ایجادات وجود میں آئیں گی۔جو اصوات الجن کے مشابہ ہوں گی یعنی آواز میں تو سنی جائیں گی مگر بولنے والے سامنے نہیں ہوں گے اور پھر ایسے آلات بھی پیدا ہو جائیں گے کہ دور بیٹھے بولنے والے نظر بھی آنے لگ جائیں گے۔سو یورپ کے موجدوں نے آج ٹیلی گرام۔ٹیلی فون۔ریڈیو۔لاسلکی اور پھر ٹیلی ویژن جیسی ایجادات ، ایجاد کر دی ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ یہ ایجادات فی الحال ودود