معجزات القرآن — Page 91
”“ گردش زمین 179 یہود اور نصاری نے اول تو یہ ظلم کیا کہ آسمانی صحیفوں میں لفظی اور معنوی تحریف کر کے ان کی سیرت اور صورت مسخ کر دی اور پھر دوسر اظلم یہ کیا کہ اپنی محرف و مبدل کتب کو سائنس کے مطابق نہ پایا تو اعلان کر دیا کہ مذہب اور سائنس میں کوئی تعلق نہیں گویا اپنی خطا خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے خود تو بری ہو گئے اور اللہ تعالیٰ پر یہ اتہام لگا دیا کہ تیرے قول اور فعل میں مطابقت نہیں ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قول اور فعل میں ہمیشہ تطابق رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ جھوٹ نہیں بولتا۔وہ جو کہتا ہے وہی کرتا ہے اور جو کرتا ہے وہی کہتا ہے۔اس کے قول اور فعل میں نہ صرف تطابق ہے بلکہ ساتھ ہی تلازم بھی ہے اگر سائنس کا کوئی سچا اور ثابت شدہ مسئلہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہونے والے کسی کلام کے مخالف ہو تو یہ اس امر کا ثبوت ہوگا کہ وہ کلام در حقیقت اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں۔ایسے ہی اگر سائنس کا کوئی مسئلہ کسی ایسے کلام سے ٹکرا رہا ہو جو واقعی اللہ تعالیٰ کا کلام ہو تو پھر مسئلہ بجائے سائنس کا مسئلہ کہلانے کے کسی غلط نظریہ کی پیداوار کہلائے گا کیونکہ خدا تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت لا زمی ہے اور ٹکراؤ ناممکن ہے۔یہ ایک حقیقت ثابتہ ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور کلام بھی ایسا کہ جس کی حفاظت کا خود اللہ نے اعلان فرمایا ہوا ہے اور صدیوں کا تجربہ شاہد ہے کہ یہ اعلان سچا ہے کیونکہ مخالفین قرآن با وجود ہزار کوشش کے قرآن کریم میں کوئی تغیر و تبدل ثابت نہیں کر سکے۔پس قرآن نہ صرف یہ کہ حقیقی سائنس کا مخالف نہیں بلکہ وہ خود ایک علمی سائنس ہے اور ہر عملی سائنس کا وہ منبع اور معیار ہے۔عملی سائنس دنیا میں جو بھی “ 180 صداقت پیش کرے گی قرآن حکیم میں اسے پہلے سے موجود پائے گی اور یہ وہ حقیقت ہے جسے زمانہ مستقبل تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گا بلکہ ایک وقت آئے گا کہ جب انسان کی ذاتی تحقیقات کی حدود ختم ہو جائیں گی تو پھر انسان قرآن کریم ہی کی روشنی میں آگے بڑھے گا اور پھر اللہ تعالیٰ کے قانون قدرت کے ایسے عجائبات کا انکشاف ہوگا جو آج انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتے۔گردش زمین کا مسئلہ ایک نیا مسئلہ ہے قرآن کریم کے نزول سے قبل کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ زمین حرکت کر رہی ہے اسی طرح قرآن کریم کے نزول کے بعد بھی دنیا صدیوں تک اس حقیقت سے نا آشنا رہی ہے حتی کہ خود مسلمان مفسرین اپنی تفاسیر میں حرکت زمین کا ذکر کرتے ہوئے تاویلات سے کام لینے لگ جاتے تھے اور کہہ دیتے تھے کہ یہ قیامت کے دن ہوگا۔اور وہ ایسا کرنے پر مجبور تھے کیونکہ ان کے پاس کوئی عملی ثبوت موجود نہ تھا۔حالانکہ قرآن کریم کی متعدد آیات زمین کی حرکت اور گردش کی شہادت دے رہی ہیں اور نہ صرف گردش کی بلکہ گردش کی کیفیت بھی بتاتی ہیں۔ذرا اس بارے میں قرآن کریم کا انداز بیان ملاحظہ فرمائیے اور غور فرمائیے کہ کس قدر لطیف ہے بعض آیات میں ایسے الفاظ رکھے گئے ہیں جن سے صرف زمین کی حرکت کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔مثلاً زمین کے متعلق (1) ظهر ( یعنی سواری) (2) مناکب (یعنی کندھے ) اور (3) مهدومهاد ( یعنی جھولا۔پنگھوڑا) کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ زمین حرکت کر رہی ہے۔پھر بعض آیات میں بتایا ہے کہ زمین کی حرکت محوری ہے۔مثلاً سورۃ نحل میں فرمایا: وَالْقَى فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِكُمْ (النحل: 16) ترجمہ: اور اس نے زمین میں پہاڑ رکھ دیئے تا کہ تمہارے لئے کھانے کا سامان مہیا کریں۔