معجزات القرآن — Page 85
" “ 167 رکھتے ہیں سورۃ اعراف میں جو حضرت موسیٰ کی میقات کی تھیں راتوں کا ذکر آیا ہے وہ راتیں لیلتہ القدر کے حساب کے مطابق حضرت عبد القادر جیلانی ” کے زمانے کو ظاہر کرتی ہیں اور جب چالیس راتوں کا ذکر کیا گیا تو اس میں اسی لیلتہ القدر کے حساب کے مطابق حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا زمانہ دکھایا گیا ہے جو چودھویں صدی ہے۔آگے فرمایا:۔مِنْهَا خَلَقْنَكُمْ وَفِيهَا نُعِيْدُ كُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى (56:4b) یعنی ہم نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور پھر ہم اسی میں دوبارہ داخل کر دیتے ہیں اور پھر اسی سے دوبارہ نکالتے ہیں۔یہی مضمون سورۃ اعراف کے دوسرے رکوع کے شروع میں آیا تھا۔وہاں فرمایا تھا۔قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ (اعراف : 26) گویا وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ“ کے الفاظ میں یہ عہد کیا گیا تھا کہ امت محمدیہ کو ایک موت کے بعد دوبارہ زندگی بخشی جائے گی۔سورۃ اعراف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی زندگی کی آئینہ دار ہے اس سورہ طہ میں جو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی شخصی زندگی کی آئینہ دار ہے یہ دکھایا گیا ہے کہ سورۃ اعراف کا وعدہ یہاں پورا ہورہا ہے اور مردہ قوم کو دوبارہ زندہ کیا جا رہا ہے پھر فرمایا۔اسْمَعُ وَآری (طه: 47) یہی الفاظ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو الہام ہوئے ہیں سو ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ کے نام کے پردے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ کو موسیٰ کا نام دیا جارہا ہے اور بنی اسرائیل کے پردے میں علاوہ بنی اسرائیل کے امت محمدیہ بھی مراد لی جارہی ہے ایسے ہی فرمایا۔" قُلْنَا لَا تَخَفْ إِنَّكَ أَنْتَ الأعلى (طه: 69) ترجمہ : ہم نے کہا مت ڈر۔یقینا تو ہی غالب آنے والا ہے۔یہ بھی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا الہام ہے۔پھر فرمایا۔فَرَجَعَ مُوسى إلى قَوْمِهِ غَضْبَانَ آسِفًا “ (طه: 87 ) “ 168 قرآن کریم میں رجعت موسیٰ کا دوسورتوں میں ذکر آیا ہے ایک سورۃ اعراف میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی زندگی کی آئینہ دار ہے اس میں فرمایا: ہوا لوٹا۔وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَى إِلى قَوْمِهِ غَضْبَانَ آسِفًا (الاعراف : 151) ترجمہ: اور جب موسیٰ اپنی قوم کی طرف سخت طیش کی حالت میں افسوس کرتا گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری اس بات کا اعلان تھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام دوبارہ تشریف لے آئے ہیں اور یہ کہ ان کی قوم بنی اسرائیل آنحضرت کی تشریف آوری کے بعد مزید غضب الہی کی مورد ہوگی یہی وجہ ہے کہ بالآخر مدینہ کے یہود کو ان کی بد چلنی اور بد عہدی پر جلا وطنی اور موت کی سزائیں دی گئیں اور مدینہ منورہ کو ان کے ناپاک وجود سے پاک کر دیا گیا۔دوبارہ رجعت موسیٰ کا ذکر سورۃ طہ میں آیا ہے یہاں بجاۓ لَمَّا رَجَعَ کے فَرَجَعَ فرمایا ہے جس میں یہ اشارہ ہے کہ اُمت محمدیہ میں موسوی صفات کی دوبارہ رجعت ہو رہی ہے سوجس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مدینہ کے یہود غضب الہی کا نشانہ بنے تھے سو ایسے ہی یہ بھی مقدر ہے کہ اس چودھویں صدی میں یہود اور امثال یہود غضب الہی کا نشانہ بنیں گے۔چنانچہ واقعات خارجہ گواہ ہیں کہ اب یہ دونوں قومیں انتہائی مصائب اور آلام میں مبتلا ہورہی ہیں اور آگے جو کچھ ہونے والا ہے وہ تصور سے بھی بالاتر ہے۔پھر فرمایا: يبَنِي إِسْرَاءِيلَ قَدْ أَنجَيْنَكُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ وَ وعَدُنَكُمْ جَانِبَ الطُّورِ الْأَيْمَنَ وَنَزَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَ والسلوى (طه:81) ترجمہ: اے بنی اسرائیل ! یقیناً ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات بخشی اور