معجزات القرآن

by Other Authors

Page 84 of 126

معجزات القرآن — Page 84

”“ 165 الْإِجْتِبَاءِ فَكَأَنَّهُ طَوَى عَلَيْهِ مَسَافَةً، لَوِ احْتَاجَ أَنْ يَنَالَهَا بِالْإِجْتِهَادِ (مفردات راغب) لبَعْدَ عَلَيْهِ یعنی کسی چیز کو طے کرنا ایسا ہی ہے جیسے درجات کو طے کرنا یا دشت کو طے کرنا اور پھر طے سے یہ بھی مراد لیا جاتا ہے کہ اس کا زمانہ ختم ہو گیا ہے جیسے کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی عمر کو سمیٹ لیا یعنی ایک وقت تھا کہ تمہاری بڑی دھوم دھام تھی اب سب کچھ سمٹ کے رہ گیا ہے۔اور بعض نے کہا کہ حضرت موسیٰ کے متعلق یہ لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے تا یہ ظاہر ہو کہ اللہ تعالیٰ نے از راہ نوازش ان پر منزل آسان کر دی اور اگر وہ اسے اپنی تگ و دو سے حاصل کرنا چاہتے تو حاصل نہ کر سکتے۔سوان کو ائف سے ظاہر ہے کہ یہاں لفظ طویٰ سے مراد یہی ہے کہ حضرت موسیٰ کا زمانہ ختم ہو گیا ہے اور اب موسیٰ کی قوم محمدی اور احمدی انوار سے مستنیر ہو کر جھٹ پٹ اپنی منزل پالے گی۔عام لوگ وادی مقدس کو کوئی مکانی چیز سمجھتے ہیں ممکن ہے کوئی ایسی جگہ بھی ہو جس کو طوی“ کہا گیا ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ وادی مقدس طویٰ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے زمانہ سے شروع ہوتی ہے اور سولھویں صدی کے آخر پر منتہی ہوتی ہے۔سو یہ تین صدیاں یعنی چودھویں، پندرھویں اور سولھویں صدی زمانی طور پر وادی مقدس طویٰ کا حکم رکھتی ہے۔سواس وادی مقدس طوی کا طواسیم کی سورتوں میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے اور یہ سب سورتیں سورۃ طہ کا تمہ ہیں۔پھر فرمایا۔إِنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ أَكَادُ أُخْفِيهَا لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ مَا تَسْعَى (16:ab) “ 166 یعنی اب جزا سزا کا وقت آنے کو ہے اس وقت سے میں پردہ اٹھانے کو ہوں تا کہ ہر نفس اپنی اپنی سعی کے مطابق جزا پائے اس آیت کی تشریح میں جو لفظ سعی آیا ہے آگے اس کی تشریح میں فرما یا فَإِذَا هِيَ حَيَّةٌ تَسْعَی یعنی اس دور میں وہی قوم جو کبھی موسیٰ کا عصا تھی اب ایک سانپ بن کر تگ و دو کر رہی ہے سوظاہر ہے کہ اب اس قوم کی سزا دہی کا وقت آپہنچا ہے اور پھر سزا دہی کے بعد اس کے راہ راست پر آنے کی ساعت بھی آ پہنچی ہے۔آگے فرمایا: قَالَ خُذْهَا وَلَا تَخَفْ سَنُعِيْدُهَا سِيرَتَهَا الْأُولى (طه:22) ترجمہ: اس نے کہا اسے پکڑ لے اور ڈر نہیں ہم اسے اس کی پہلی حالت پر لوٹا دیں گے۔ان الفاظ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ یہی تو میں جو آج اثر دھا بنی ہوئی ہیں ایک وقت آئے گا کہ پھر اپنی پاکیزہ سیرت کو اختیار کر کے انبیاء کی جماعتوں والے اخلاق پیدا کرلیں گی۔آگے فرمایا:۔وَالْقَيْتُ عَلَيْكَ فَجَبَةً مِّنِي “ (طه: 40) ترجمہ: اور میں نے تجھ پر اپنی محبت انڈیل دی۔یہ الفاظ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو بھی الہام ہوئے سو یہ ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ کے ذکر کے پردے میں اسی مثیل موسیٰ کے زمانے کا ذکر کیا جارہا ہے۔آگے فرمایا : ” وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي “ (طه: 40) یعنی اے موسیٰ میں چاہتا ہوں کہ تو میری آنکھوں کے سامنے پروان چڑھے یہی الفاظ حضرت سید عبد القادر جیلانی کو بھی الہام ہوئے تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سید عبد القادر جیلانی کو حضرت موسیٰ سے مماثلت تھی۔اور پھر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو کہا گیا ہے کہ یا عبد القادر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت سید عبدالقادر جیلانی " باہم مماثلت