معجزات القرآن — Page 104
”“ 205 “ 206 ان بہت سے لوگوں پر جو اُس کے ساتھ ہیں شدّت کا مینہ اور بڑے بڑے اولے اور آگ اور گندھک برساؤں گا اور اپنی بزرگی اور اپنی تقدمیں کراؤں گا۔اور بہت سی قوموں کی نظروں میں مشہور ہوں گا۔اور وہ جانیں گے کہ خداوند میں ہوں“۔( حز قیل باب 38 آیت 15 تا 23) پھر لکھا ہے کہ:۔” ساتویں (فرشتے) نے اپنا پیالہ ہوا پر الٹا اور مقدس کے تخت کی طرف سے بڑے زور سے یہ آواز آئی کہ ہو چکا۔پھر بجلیاں اور آوازیں اور گرجیں پیدا ہوئیں اور ایک ایسا بڑا بھونچال آیا کہ جب سے انسان زمین پر پیدا ہوئے ایسا بڑا اور سخت بھونچال بھی نہ آیا تھا اور اس بڑے شہر کے تین ٹکڑے ہو گئے اور قوموں کے شہر گر گئے۔۔۔اور ہر ایک ٹائو اپنی جگہ سے ٹل گیا اور پہاڑوں کا پتہ نہ لگا اور آسمان سے آدمیوں پر من من بھر کے بڑے بڑے اولے گرے“۔پھر لکھا ہے:۔(مکاشفہ باب 16 آیت 17 تا 21) اور جب ہزار برس پورے ہوچکیں گے تو شیطان قید سے چھوڑ دیا جائے گا اور اُن قوموں کو جو زمین کی چاروں طرف ہوں گی یعنی یا جوج ماجوج کو گمراہ کر کے لڑائی کے لئے جمع کرنے کو نکلے گا۔اُن کا شمار سمندر کی ریت کے برابر ہوگا اور وہ تمام زمین پر پھیل جائیں گی اور مقدسوں کی لشکر گاہ اور عزیز شہر کو چاروں طرف سے گھیر لیں گی اور آسمان پر سے آگ نازل ہو کر انہیں کھا جائے گی“۔(مکاشفہ باب 20 آیت 7 تا 9) اس حوالے میں ہزار سال سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے ہزار سال ہیں اور عزیز شہر اسلامیوں کا مرکز مکہ معظمہ ہے۔جس میں بیت اللہ الحرام یعنی خانہ کعبہ ہے۔اور بیت الحرام کے معنے عزت والے اور حرمت والے گھر کے ہیں لہذا عزیز شہر اور مقدسوں کی لشکر گاہ سے مراد عالم اسلام ہے۔پھر حز قیل باب 39 آیت: 1 تا 10 میں لکھا ہے کہ:۔دو پس اے آدم زاد تو جوج کے خلاف نبوت کر اور کہہ کہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے۔دیکھ اے جو ج روش اور مسک اور توبل کے فرمانروا میں تیرا مخالف ہوں اور میں تجھے پھرا دوں گا اور تجھے لئے پھروں گا اور شمال کی دُور اطراف سے چڑھا لاؤں گا اور تجھے اسرائیل کے پہاڑوں پر پہنچاؤں گا اور تیری کمان تیرے بائیں ہاتھ سے چھڑا دوں گا اور تیرے تیر تیرے داہنے ہاتھ سے گرا دوں گا۔تو اسرائیل کے پہاڑوں پر اپنے سب لشکر اور حمایتیوں سمیت گر جائے گا۔۔۔اور میں ماجوج پر اور اُن پر جو بحری ممالک میں سکونت کرتے ہیں آگ بھیجوں گا اور وہ جانیں گے کہ میں خداوند ہوں۔اور میں اپنے مقدس نام کو اپنی امت اسرائیل پر ظاہر کروں گا۔اور قومیں جائیں گی کہ میں خداوند اسرائیل کا قدوس ہوں۔دیکھ وہ پہنچا اور وقوع میں آیا۔خداوند فرماتا ہے یہ وہی دن ہے جس کی بابت میں نے فرمایا تھا تب اسرائیل کے شہروں کے بسنے والے نکلیں گے اور آگ لگا کر ہتھیاروں کو جلائیں گے یعنی سپروں اور پھر یوں کو کمانوں اور تیروں کو اور بھالوں اور برچھیوں کو اور وہ سات برس تک اُن کو جلاتے رہیں گے یہاں تک کہ نہ وہ میدان سے لکڑی لائیں گے اور نہ جنگلوں سے کاٹیں گے کیونکہ وہ ہتھیار ہی جلائیں گے اور وہ اپنے لوٹنے