معجزات القرآن — Page 103
”“ ہوتے ہیں۔203 قرآن کریم کے اسلوب بیان کے پیش نظر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خود قرآن کریم لفظ " تُكلّم “ کے معنے کلام کو پہلا درجہ دیتا ہے کیونکہ آگے فرمایا۔وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِم بِمَا ظَلَمُوا فَهُمْ لَا يَنْطِقُون یعنی جب یہ بڑھ بڑھ کے باتیں بنانے والے مستوجب سز ا ٹھہر کر سزا پائیں گے تو پھر اُن میں بات کرنے کی سکت نہ رہے گی اور سارا فلسفہ دھرا دھرا یا رہ جائے گا۔لہذا یہ " لَا يَنْطِقُون“ کے الفاظ لفظ تکلم “ کے معنی کلام کو ترجیح دینے کا فائدہ پہنچاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ مسیح علیہ السلام کے متعلق ”تُكلّمُ النَّاسَ “ کے الفاظ رکھے گئے ہیں کیونکہ مسیح کا کلام دجال کے لادینی فلسفہ کو کھا جائے گا۔دوو پھر بائبل میں یا جوج ماجوج کی عیاری اور فریب کاری کی روش کو دانی ایل باب گیارہ آیت 27 میں مندرجہ ذیل الفاظ میں دکھایا گیا ہے: ان دونوں بادشاہوں کے دل شرارت کی طرف مائل ہوں گے۔وہ ایک ہی دستر خوان پر بیٹھ کر جھوٹ بولیں گے پر کامیابی نہ ہوگی کیونکہ خاتمہ مقررہ وقت پر ہوگا۔حدیث شریف میں بھی ان کے متعلق کہا گیا ہے کہ ان کی زبانیں شہد سے زیادہ شیریں ہوں گی لیکن دل بھیڑیوں کی طرح ہوں گے۔یا جوج ماجوج کی تباہی: اس کے متعلق بھی بہت سی پیشگوئیاں موجود ہیں اس تباہی کے اکثر اسباب اب مہیا ہو چکے ہیں اور کچھ ہورہے ہیں اور تباہی کے ابتدائی آثار بھی ظاہر ہو چکے ہیں ؎ اشارے دست قدرت کے نمایاں ہوتے جاتے ہیں خدا کے دین کی نصرت کے ساماں ہوتے جاتے ہیں “ بائبل میں لکھا ہے کہ:۔تو اپنی جگہ سے شمال کی دُور اطراف سے آئے گا تو اور بہت سے لوگ تیرے ساتھ جو سب کے سب گھوڑوں پر سوار ہوں گے ایک بڑی فوج اور بھاری لشکر تو میری اُمت اسرائیل کے مقابلہ کو نکلے گا اور زمین کو بادل کی طرح چھپالے گا۔یہ آخری دنوں میں ہوگا۔اور میں تجھے اپنی سرزمین پر چڑھا لاؤں گا۔تاکہ قومیں مجھے جانیں جس وقت میں اے جوج اُن کی آنکھوں کے سامنے تجھ سے اپنی تقدیس کراؤں۔خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ کیا تو وہی نہیں جس کی بابت میں نے قدیم زمانہ میں اپنے خدمت گزار اسرائیلی نبیوں کی معرفت جنہوں نے اُن ایام میں سالہا سال تک نبوت کی فرمایا تھا کہ میں تجھے اُن پر چڑھالاؤں گا اور یوں ہوگا کہ اُن ایام میں جب جوج اسرائیل کی مملکت پر چڑھائی کرے گا تو میرا قہر میرے چہرہ سے نمایاں ہوگا۔خداوند خدا فرماتا ہے کیونکہ میں نے اپنی غیرت اور آتش قہر میں فرمایا کہ یقیناً اس روز اسرائیل کی سرزمین میں سخت زلزلہ آئے گا۔یہاں تک کہ سمندر کی مچھلیاں اور آسمان کے پرندے اور میدان کے چرندے اور سب کیڑے مکوڑے جو زمین پر رینگتے پھرتے ہیں اور تمام انسان جوڑوئے زمین پر ہیں میرے حضور تھر تھرا ئیں گے اور پہاڑ گر پڑیں گے اور کراڑے بیٹھ جائیں گے اور ہر ایک دیوار زمین پر گر پڑے گی اور میں اپنے سب پہاڑوں سے اس پر تلوار طلب کروں گا۔خداوند خدا فرماتا ہے اور ہر ایک انسان کی تلوار اس کے بھائی پر چلے گی اور میں و با بھیج کر اور خونریزی کر کے اسے سزا دوں گا اور اس پر اور اس کے لشکروں پر اور 204