معجزات القرآن

by Other Authors

Page 32 of 126

معجزات القرآن — Page 32

”“ 61 “ 62 29 الخ کی تلاوت فرمارہے تھے۔ابو یا سر اس کو سن کر اپنے یہودی ساتھیوں کے ساتھ اپنے بھائی محیی بن اخطب کے پاس گیا اور اس سے کہنے لگا: تم لوگ جان رکھو واللہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اس چیز میں جوان پر نازل کی گئی ہے۔العم ذُلِكَ الْكِتَابُ لَا رَيْبَ فِيهِ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔محیی اس بات کو سن کر کہنے لگا۔"تم نے اپنے کانوں سے سنا ہے؟“ ابو یاسر نے جواب دیا ”بیشک“ اس کے بعد حیی بن اخطب کئی بڑے بڑے یہودیوں کو جو پہلے سے وہیں موجود تھے ساتھ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اُن سب نے آپ سے دریافت کیا۔” کیا آپ کو یاد ہے کہ اس کتاب میں سے جو آپ پر نازل ہوئی ہے الم ذلِكَ الْكِتَاب کی تلاوت فرما رہے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔”ہاں یاد ہے۔“ یہودیوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے آپ سے قبل بہت سے نبی مبعوث فرمائے مگر ہم کو یہ معلوم نہیں ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اُن میں سے کسی نبی پر اُس کے ملک (حکومت) کی مدت بیان ( واضح کر دی ہو اور یہ بتا دیا ہو کہ اس نبی کی امت کب تک قائم رہے گی۔مگر آپ کو یہ بات بتادی گئی ہے۔العد" میں الف کا ایک لام کے تیس اور ھر کے چالیس عدد ہیں جو مجموعی طور پر 71 سال ہوتے ہیں۔پس کیا ہم ایسے نبی کے دین میں داخل ہوں جس کے ملک کی مدت اور جس کی اُمت کا زمانہ صرف 71 سال ہے۔“ پھر اس نے کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) آیا اس کلمہ کے ساتھ کا کوئی دوسرا کلمہ اور بھی ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں“ ہے۔المَصَ - حُيَى بن اخطب نے کہا یہ اس سے زیادہ ثقیل اور طویل ہے۔الف کا ایک لام کے تیس ھ کے چالیس اور ص کے نوے عدد ہیں جس کا مجموعہ 161 سال ہوا۔اور کیا اس کے ساتھ کوئی اور کلمہ بھی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں الر ہے محیی نے کہا یہ دونوں سے بڑھ کر تقیل اور طویل ہے۔الف کا 1 ، لام کے 30 را کے 200 جملہ 231 سال ہوئے۔محیی نے کہا اس کے ساتھ کوئی اور کلمہ بھی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہاں المر ہے۔محیی نے کہا یہ دونوں سے بڑھ کر تنقیل تر اور طویل تر ہے۔الف کا ایک ، لام 66 کے تیس،م کے چالیس را کے دوسو جملہ 271 سال ہوئے۔“ پھر اس نے کہا ” اس میں شک نہیں کہ آپ کا معاملہ ہم کو الجھن میں ڈال رہا ہے جس کی وجہ سے ہمیں یہ نہیں معلوم ہوسکتا کہ آیا آپ کو تھوڑی مدت دی گئی ہے یا بہت زیادہ۔اور اپنی قوم سے مخاطب ہوکر کہا ”چلو اس کے پاس سے اُٹھ چلو ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ) اس کے بعد ابو یاسر نے اپنے بھائی محیی اور اُس کے ساتھ والے اپنے ہم قوم لوگوں سے کہا۔” تمہیں کیا معلوم کہ شاید اللہ تعالیٰ نے یہ سب لذتیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لئے جمع فرما دی ہوں۔(الاتقان اردو جلد دوم صفحہ 25 ، 26 اور الاتقان عربی صفحہ 237 ایڈ یشن 1280) یہ روایت باختلاف الفاظ متعدد کتب تفسیر میں موجود ہے۔بعض میں لکھا ہے کہ محیی بن اخطب اپنے ساتھیوں سمیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو اس نے آپ سے کہا کہ میں آپ کو خدا کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا آپ پر الم کے حروف نازل ہوئے ہیں اور بعض میں لکھا ہے کہ محیی نے جب یہ کہا کہ آپ کی اُمت اور سلطنت کے کل 71 سال ہیں تو اس پر حضور مسکرا دیئے اور بعض