معجزات القرآن — Page 31
”“ 59 “ 60 60 حروف مقطعات احادیث نبوی اور اہل اللہ کے کشوف کی روشنی میں حروف مقطعات کے بارے میں مختلف نظریات اختیار کئے گئے ہیں۔بعض علماء نے کہا کہ یہ اسرار غیبیہ ہیں جن کا علم صرف خدا تعالیٰ کو ہے۔ہم ان میں تدبر کرنے کیلئے مکلف نہیں ہیں۔بعض نے کہا کہ نہیں یہ کتاب اللہ کی آیات ہیں اور آیات اللہ کے متعلق اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ (ص: 30) لہذا ہمیں ان میں تدبر کرنے کا حق ہے پھر جن لوگوں نے ان میں تدبر کیا ان میں سے بعض نے کہا کہ یہ اسماء اللہ ہیں اور بعض نے کہا کہ یہ انہی سورتوں کے مضامین کا خلاصہ ہیں اور بعض نے کہا کہ یہ امتوں کی اجل کو ظاہر کرتے ہیں۔میرے نزدیک ان جملہ آرا میں سے صرف آخری رائے مستند ہے۔کیونکہ اس رائے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی تصدیق حاصل ہے۔باقی آرا ہر عالم کے اپنے ذوق کا نتیجہ ہیں۔جب ہم کہتے ہیں کہ حروف مقطعات میں امت محمدیہ کو اجل دی گئی ہے تو اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اہل اللہ نے جو جو معنی بیان کئے ہیں وہ غلط ہیں۔ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی جگہ پر سب صحیح ہوں۔البتہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے حروف مقطعات کے متعلق فرمایا ہے کہ ” میں نے ایک معنی ان حروف کے یہ بتائے تھے کہ ان کے عدد کے مطابق سالوں کے واقعات کی طرف ان کے بعد کی سورت میں اشارہ کیا گیا ہے۔یہ معنی ایک یہودی عالم نے کئے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس نے ان کو دہرایا۔آپ نے اس کی تردید نہیں کی بلکہ ایک رنگ میں تصدیق کی۔( تفسیر کبیر جلد اول جز اول صفحه 63) علمائے یہود کے نزدیک حروف مقطعات کے اس کے سوا اور کوئی معنی نہ تھے کہ وہ امت محمدیہ کی اجل کو ظاہر کرتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اس رائے کی تردید نہیں فرمائی بلکہ تصدیق فرمائی۔اس بارہ میں مندرجہ ذیل روایت اس حقیقت کی قطعی شاہد ہے کہ حروف مقطعات کے اعداد کے پر دے میں اُمت محمدیہ کی اجل کا حساب رکھا گیا ہے۔اس حساب کا اس وقت تک مخفی رہنا ضروری تھا جب تک کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا بانی دنیا میں ظاہر نہ ہوتا اور پھر یہ حروف اس کی صداقت کی شہادت دے کر اُس کی آمد کو منجانب اللہ ثابت نہ کرتے۔جس روایت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سند حاصل ہے وہ حسب ذیل ہے: حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ اپنی کتاب ”الاتقان میں تحریر فرماتے ہیں۔بیان کیا گیا ہے کہ یہ حروف مقطعات ابجد کے حساب سے ہیں اور ان کی غرض یہ ہے کہ اُمتِ محمدیہ کی مدت قیام پر دلالت کرتے ہیں۔ابن ابی اسحاق نے کلبی سے ، اُس نے ابو صالح سے اور ابو صالح نے ابن عباس سے اور ابن عباس نے جابر سے اور جابر نے عبداللہ بن رباب سے یہ روایت کی ہے کہ ابو یاسر بن اخطب یہودی چند معزز لوگوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہو کر نکلا اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم 66 سورۃ البقرۃ کی ابتدائی آیات الم ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ “