معجزات القرآن

by Other Authors

Page 25 of 126

معجزات القرآن — Page 25

”“ 47 “ 48 الْآخَرِيْنَ إِنْ كَانَتْ أُمِّيَّةً فَلَا ضَرُورَةً تُلْجِتُنَا إِلَى أَنْ نَقُولَ اِنَّ بَعْثَ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ خَصَّهُ اللهُ إِلَى الْأُمَمِ الأُمِّيَّةِ فَقَط فَعَلى مَايَرَاهُ النَّاسُ وَيَرَاهُ الْإِمَامُ السّنْدِي لَا يَبْقَى فِي الْآيَةِ مَرْجِعُ لِضَمِيرِ مِنْهُمْ وَلَا يَكُونُ فِي مِنْهُمْ إِفَادَةٌ غَيْرَ تَخْصِيصِ رِسَالَةِ الْقُرْآنِ الْكَرِيمِ وَرِسَالَةِ صَاحِبِ الْقُرآنِ الْكَرِيمِ لِلْامَةِ الْأُمِيَّةِ وَالتَّخْصِيْصُ غَيْرُ مَطلُوبِ بَلِ التَّخْصِيْصُ يُنَاقِضُ نُصُوصَ آيَاتٍ كَثِيرَةٍ مِنَ الْكِتَابِ الْكَرِيمِ۔کتاب فی حروف اوائل السور صفحہ 132) ترجمہ :۔قرآن کریم کے الفاظ وَ آخَرِينَ مِنْهُمْ “ کے بارے میں امام سندی کی وہی رائے ہے جو دوسرے لوگوں کی ہے۔لیکن میں اس سے مطمئن نہیں ہوں۔گواز روئے معنی میں امام سندی اور دوسرے لوگوں کے نظریے کی صحت کا انکار نہیں کرتا لیکن مجھے جو بات کھٹکتی ہے وہ از روئے نحو کلام ہے۔کیونکہ منہم کی ضمیر کا مرجع لفظ امین نہیں بن سکتا۔وجہ یہ ہے کہ آخرین یعنی دوسرے سب لوگ امی نہیں ہیں۔اور اگر ان میں بعض امی ہوں بھی تو ہمیں کوئی ایسی مجبوری در پیش نہیں ہے کہ ہم بعثت محمدی کو صرف ان پڑھ قوموں کے لئے مخصوص کر دیں۔سو امام سندی اور دوسرے لوگوں کی رائے کو اگر اختیار کیا جائے تو پھر ” منهم “ کی ضمیر کا کوئی مرجع نظر نہیں آتا اور پھر لفظ ” منهُم “ کا سوائے اس کے کہ وہ قرآن اور صاحب قرآن کی رسالت کو ان پڑھ قوموں سے مخصوص کر دے اور کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔حالانکہ آنحضرت سالی یتیم کی رسالت کو امی قوموں کے لئے مخصوص کرنا مطلوب نہیں ہے بلکہ اس قسم کی تخصیص قرآن کریم کی بہت سی نصوص کی مخالف ہے۔دو و وو މވ 66 اس اعتراض کے بعد علامہ موصوف اس آیت کے جو معنی بیان کرتے ہیں وہ حسب ذیل ہیں :۔وَمَعْلَى هَذِهِ الْآيَةِ الْكَرِيمَةِ الثَّالِثَةِ هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنَ الْأُمِّيِّينَ وَ بَعَثَ فِي آخِرَيْنَ رُسُلًا مِنْ آخَرِيْنَ۔فَكُلُّ أُمَّةٍ لَّهَا رَسُولٌ مِّنْ نَفْسِهَا وَهُؤُلاءِ الرُّسُلُ هُمْ رُسُلُ الْإِسْلَامِ فِي الْأُمَمِ مِثْلُ أَنْبِيَاءِ بَنِي إسْرَائِيلَ - هُمْ رُسُلُ التَّوراةِ فِي بَنِي اسْتَرَائِيلَ 66 ( کتاب فی حروف اوائل السور صفحه 133 ) یعنی اس تیسری آیت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک رسول کو امتیوں میں بھیجا اور کچھ دوسرے رسول ، دوسرے لوگوں میں بھیجے۔سو ہر اُمت کا اپنا اپنا رسول ہے اور ان رسولوں سے مرا در سل اسلام ہیں جو دوسری قوموں میں مبعوث ہوں گے۔جیسے کہ تو رات کے پیغمبر بنی اسرائیل میں مبعوث ہوئے۔علامہ موصوف کی ان تصریحات سے ظاہر ہے کہ وہ نشاۃ ثانیہ کے رسل کوتعلیم یافتہ رسل تسلیم کرتے ہیں جن کا تعلق بجائے تلوار کے قلم سے ہوگا اور وہ اپنے عہد کی علمی دنیا سے دلائل و بینات کی طاقت سے قرآن اور صاحب قرآن کی صداقت منوائیں گے۔اس کے علاوہ ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ جب ہم قرآن شریف کی تلاوت کرنے لگیں تو پہلے اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّجِيمِ پڑھ لیا کریں۔سوان کلمات سے بھی امت اسلامیہ کی دونشاتوں کی طرف اشارہ ہے۔لفظ شیطان لفظ رحمن کے مقابل آیا ہے اور لفظ رجیم لفظ رحیم کے مقابل واقع ہوا ہے اور ان کلمات میں دراصل یہ پیشگوئی مضمر ہے کہ ملت اسلامیہ جو حزب الرحمن ہے ہمیشہ حزب الشیطان سے