معجزات القرآن — Page 88
”“ 173 “ 174 وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ (بنی اسرائیل : 65) ترجمہ: پس اپنی آواز سے ان میں سے جسے چاہے بہکا۔یعنی اے مظہر ابلیس یا جوج ماجوج تو اپنے پراپیگینڈے سے جسے چاہے فریب دے کر اپنا بنالے لیکن ایک وقت آئے گا کہ تیرے یہ پراپیگنڈے اور ہتھکنڈے ختم ہو جائیں گے اور بالآخر تجھے خدائے رحمن کے سامنے سر جھکانا پڑے گا اور تثلیث کو ترک کر کے توحید کو اختیار کرنا پڑے گا سوسورۃ طہ کے یہ الفاظ کہ ” خَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ لِلرِّحْمنِ “ میں اس عہد کے الفاظ کا اعلان کیا گیا ہے پس 1426 سال سے پہلے پہلے یہ تمام شور و شر ختم ہو جائے گا اور یہ یا جوجی ماجوجی طاقتیں یوں اڑ جائیں گی جس طرح تیز و تند آندھیوں میں بھوسہ اڑ جاتا ہے۔اور پندرھویں صدی کے ربع اول کے بعد یہ قومیں اسلام کی طرف بڑی شدت سے رجوع کریں گی جس کا تفصیلی ذکر آگے آئے گا۔پھر فرمایا: "يَوْمَن يَتَّبِعُونَ الدَّاعِيَ“ (طه: 109) ترجمہ: اس دن وہ اس دعوت دینے والے کی پیروی کریں گے جس میں کوئی کبھی نہیں۔66 یہ داعی وہی امام ہے جس کا ذکر سورۃ بنی اسرائیل میں آیا تھا کہ : يَوْمَ نَدْعُوا كُل اُنَاس بِاِمَامِهِمْ “ ( بنی اسرائیل : 72) جس کا سن آیت کے اعداد میں موجود ہے یعنی جس کی دعوت کے آغاز کا سن "يَوْمَ يَدْعُوكُمْ فَتَسْتَجِيبُونَ بِحَمْدِهِ کے اعداد کے مطابق 1276 ہے اور یہی اعداد وَ أَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ( الجمعة : 4) کے کلمات کے ہیں۔پھر فرمایا فَقُلْنَا يَأْدَمُ إِنَّ هَذَا عَدُةٌ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا يُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقَى إِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعْرُى۔وَأَنَّكَ لَا تَطْمَوا فِيهَا وَلَا تَضْحى (طه: 118 120) پس ہم نے کہا اے آدم یقینا یہ تیرا اور تیرے ساتھیوں کا دشمن ہے یہ تم دونوں کو جنت سے نہ نکلوا دے اور پھر تم مصیبت میں پڑ جاؤ حالانکہ جنت میں رہتے ہوئے تیرا یہ حق ہے کہ نہ تو بھوکا رہے نہ تو نگا ر ہے نہ پیاسا ر ہے اور نہ بغیر مکان کے رہے قصہ ابلیس و آدم کے ضمن میں اِنَّ لَكَ أَلَّا تَجُوعَ فِيهَا وَلَا تَعْرُى۔وَأَنَّكَ لَا تَطْمَوا فِيْهَا وَلَا تَضُحى (طه: 118 تا 120) یه کلمات صرف سورۃ طہ میں آئے ہیں اور کہیں نہیں آئے یہی وجہ ہے کہ چودھویں صدی میں ملت اسلامیہ میں یہ بھی سوال بڑے زور وشور سے اٹھ چکا ہے کہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ نہ تو رعایا کو بھوکا رہنے دے اور نہ ننگا اور یہ کہ ان کے لئے پانی کا اور مکان کا بھی انتظام کرےسواس کیفیت سے ظاہر ہے کہ ہمارا یہ کہنا کہ سورۃ طہ کا تعلق چودھویں صدی سے ہے کسی مزید دلیل کا محتاج نہیں۔قرآن کریم کے ان الفاظ میں دراصل جنت سے مراد اس دور کے آدم کی تعلیم پر عمل کرنا ہے یعنی احمدیت کی جنت میں داخل ہو کر ہر قسم کی شقاوت سے محفوظ ہو جانا ہے مکاشفہ یوحنا عارف سے اس حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے کہ جنت سے مراد اس دور کا مامور من اللہ ہے جیسا کہ لکھا ہے۔” اور جو تخت پر بیٹھا ہے وہ اپنا خیمہ ان کے اوپر تانے گا اس کے بعد نہ کبھی ان کو بھوک لگے گی اور نہ پیاس اور نہ کبھی ان کو دھوپ ستائے گی نه گرمی (مکاشفہ باب 7 آیت 15-16 ) ان الفاظ میں تخت پر بیٹھنے والے سے مراد ( سید نا حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ احمد یہ ہیں۔) پھر فرمایا: فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُمْ مَّتِي هُدًى ( طه : 124 ) ( ترجمہ : جب بھی میری طرف سے تم تک ہدایت آئے ) یہ الفاظ در حقیقت حضرت امام مہدی علیہ السلام کی تشریف آوری کے لئے بطور اعلان کے ہیں۔پھر فرمایا:۔யய