معجزات القرآن — Page 89
”“ 175 فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى (طه: 124 ) ( ترجمہ: تو جو بھی میری ہدایت کی پیروی کرے گا تو نہ وہ گمراہ ہو گا۔اور نہ بد نصیب ) یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی لائی ہوئی ہدایت کی اتباع کرنے والے آسمانی اور زمینی انعامات سے بہرہ ور کئے جائیں گے اور نامرادی کبھی ان کے پاس نہیں آئے گی۔چنانچہ مولوی عبد اللہ صاحب غزنوی کو بھی الہام ہوا کہ:۔قُلْ لِلْحُسَيْنِ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَايَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَى (سوانح عمری صفحه 41) یعنی حسین سا سے کہہ دو کہ جو شخص میری بھیجی ہوئی ہدایت کی اتباع کرے گا وہ نہ تو بھٹکے گا اور نہ ہی نامراد ر ہے گا حضرت مولوی عبد اللہ غزنوی صاحب کا یہ الہام اس حقیقت کا مؤید ہے کہ یہاں کھدائی سے مراد حضرت امام مہدی کی تعلیم ہے جو عنقریب ظہور میں آنے والی تھی پھر فرمایا: وَلَا تَمدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَى مَا مَتَّعْنَا بة أَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَيَوةِ الدُّنْيَا (طہ: 132 ) یعنی مختلف گروہوں کو جو ہم نے مال و متاع اور ساز و سامان بخشا ہے ان کی طرف نگاہ طمع دراز نہ کر یہ صرف چار دن کی چاندنی ہے ان الفاظ میں موجودہ زمانہ کے ان اسباب و آرائش کی طرف اشارہ ہے جو عروج تک پہنچ چکے ہیں۔پھر فرمایا وَأمُرُ أَهْلَكَ بِالصَّلوة (طه: 133 ) ( ترجمہ: اور اپنے گھر والوں کو نماز کی تلقین کرتا رہ۔) یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ اس دور میں مسلمان نمازیں ترک کر چکے ہوں گے یہی وجہ ہے کہ سورۃ مریم میں فرمایا تھا أَضَاعُوا الصَّلوةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوتِ ( مریم : 60) یعنی انہوں نے نمازوں کو ضائع کر دیا اور شہوات کے پیچھے لگ گئے اور ایسے ہی سورۃ مریم لے حسین آپ کا ایک خادم تھا لیکن اس الہام میں اشارہ ہے کہ مولوی محمد حسین امام مہدی کی مخالفت کریں گے۔“ 176 میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذکر کے ضمن میں فرمایا تھا: كَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلوة ( مريم : 56 ) جس کے معنی یہ ہیں کہ اور تو اور خود قریش کہلانے والے بھی نمازوں سے غافل ہو چکے ہوں گے اور عرب قومیں اسلام سے دور جا پڑی ہوں گی۔