معجزات القرآن — Page 83
”“ 163 “ 164 زکریا کو بھی بیٹا عطا کیا گیا اور حضرت ابراہیم کو بھی بیٹا عطا کیا گیا۔سورۃ طہ کی اس پہلی آیت میں ان ہی واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرما یا مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقى یعنی جس طرح حضرت زکریا اور حضرت ابراہیم کو ورثا عطا کئے گئے تھے ایسے ہی تیرے لئے بھی مقدر ہے کہ تجھے ایک روحانی بیٹا عطا کیا جائے گا، پھر فرمایا۔الرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوى (طه: 6) قرآن کریم استَوى عَلَى العَرش سے مراد ہفتم ہزار کا زمانہ لیتا ہے کیونکہ ہر جگہ فرماتا ہے کہ چھ دن میں زمین و آسمان پیدا کئے اور ساتویں دن عرش پر مستوی ہوا۔پس حضرت بانی سلسلہ احمد یہ ساتویں ہزار میں احمد بن کر سامنے آئے اور اللہ تعالیٰ ان کے مبارک قلب پر جلوہ گر ہوا اس کے علاوہ مادی طور پر بھی یہ زمانہ خدائے رحمان کی عظیم الشان تجلیات کا حامل ہے۔اس زمانے کی ایجادات ایسی ایجادات ہیں جو اس سے پہلے نہ کبھی سنی نہ دیکھی گئی تھیں اور نہ کبھی وہ وہم و گمان میں آسکتی تھیں۔آگے فرمایا۔وَ هَلْ أَتُكَ حَدِيثُ مُوسَى إِذْ رَا نَارًا فَقَالَ لِأَهْلِهِ امْكُثُوا إِلى انسْتُ نَارًا لَّعَلَى اتِيْكُمْ مِّنْهَا بِقَبَسٍ أَوْ أَجِدُ عَلَى النَّارِ هُدًى فَلَمَّا أَتَهَا نُودِيَ يَمُوسَى إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعُ نَعْلَيْكَ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى وَانَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا يُوحَى ( طه : 10 تا14) ترجمہ: اور کیا موسیٰ کی سرگزشت تجھ تک پہنچی ہے؟ جب اس نے آگ دیکھی تو اپنے اہل سے کہا ذرا ٹھہرو، میں نے ایک آگ سی دیکھی ہے امید ہے کہ میں تمہارے پاس اس میں سے کوئی انگارہ لے آؤں یا اس آگ کے پاس مجھے راہنمائی مل جائے۔پس جب وہ اس تک پہنچا تو آواز دی گئی کہ اے موسیٰ ! یقیناً میں تیرا رب ہوں۔پس اپنے دونوں جو تے اُتار دے۔یقینا تو طولی کی مقدس وادی میں ہے۔اور میں نے تجھے چن لیا ہے۔پس اُسے غور سے سن جو وحی کیا جاتا ہے۔ان آیات میں دراصل حدیث موسیٰ کے پردے میں یہ بتایا جارہا ہے کہ موسیٰ کو جو آگ دکھائی گئی تھی اور جس سے انہوں نے اقتباس کرنا تھا اور ہدایت پانا تھی وہ یہی آگ ہے اور اس چودھویں صدی حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ روشن کی گئی ہے اور جو دراصل آتش محمدی سے مقتبس ہے۔چنانچہ حضور خود فرماتے ہیں: این آتشم ز آتش مهر محمدی ست پھر فرما یا انّى اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ان الفاظ میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ اب تیری قوم کی تربیت کا وقت آ گیا ہے لیکن یہ تربیت تیرے ذریعہ سے نہیں ہوگی کیونکہ تیرے سفر کا وقت ختم ہو گیا ہے کیونکہ عالم کشوف ورڈ یا میں جوتا اتارنے سے مراد سفرختم کرنا ہوتا ہے۔پھر فرمایا اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى“ یعنی اب تو وادی مقدس طوئی میں آپہنچا ہے ان الفاظ میں طوی“ ایک عظیم الشان حقیقت کا حامل ہے اور وہ حقیقت یہ ہے کہ تیری قوم جس سفر کو تین ہزار سال میں طے نہ کر سکی اب وہی سفر دو تین سو سال میں طے ہو جائے گا کیونکہ عربی زبان میں طوی“ کے حسب ذیل معنے ہیں:۔طَوَيْتُ الشَّيْء طَيَّاً، وَذَلِكَ كَفِي الشَّرَجِ وَمِنْهُ: طَوَيْتُ الْفَلَاةَ وَيُعَبَّرُ بِالتّي عَنْ مُضِي الْعُمُرِ۔يُقَالُ: طَوَى اللهُ عُمرَهُ، قَالَ الشَّاعِرُ : قلوتُكَ خُطُوبُ دَهْرِكَ بَعْدَ ذَكَرٍ وَقِيلَ إِنَّ ذلِكَ جُعِل إشَارَةٌ إِلَى حَالَةٍ عَصْلَتْ لَهُ عَلى طريق