معجزات القرآن

by Other Authors

Page 77 of 126

معجزات القرآن — Page 77

”“ 151 جس کے نتیجے میں انسان بُرے لوگوں کی بدیوں سے بچنے کیلئے انقطاع اور تبتل الی اللہ اختیار کرتا ہے اور پھر اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا مورد ٹھہرتا ہے اسی طرح سورۃ مریم میں حضرت ابراہیم کے متعلق فرمایا:۔فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَهَبْنَالَةَ إسْحَقَ وَيَعْقُوبَ، وَكُلًّا جَعَلْنَا نَبِيًّا وَوَهَبْنَا لَهُمْ مِنْ رَّحْمَتِنَا وَجَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِيًّا ( مریم : 50-51) یعنی جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی قوم اور معبودانِ باطلہ سے الگ تھلگ ہو گئے تو ہم نے انہیں الحق “ اور یعقوب عطا کئے اور پھر انہیں نبوت بخشی اور ( یہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ) ان پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیئے اور ان کے لئے اعلیٰ درجہ کا ذکر خیر پیچھے چھوڑا۔پھر اسی طرح سورۃ کہف میں آتا ہے۔فَأَوَا إِلَى الْكَهْفِ يَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ رَّحْمَتِهِ (الكيف : 17) یعنی ان لوگوں سے بھاگ نکلو اور کسی غار میں جا کر پناہ لے لو تب تمہارا خدا تمہارے لئے رحمت کے دروازے کھول دے گا اور درمنثور جلد 4 صفحہ 215 میں لکھا ہے کہ اصحاب کہف سے مراد اعوان مہدی ہیں۔سوان آیات سے ظاہر ہے کہ مقربین بارگاہ الہی کا فرار یا اعتزال صفاتی پہلوؤں کا بھی حامل ہوتا ہے سو حضرت مریم کے متعلق یہ کہنا کہ وہ اپنے اہل سے دور چلی گئیں تھیں اس سے یہ بھی مراد ہے کہ آپ کی صفات مشرق کی طرف منتقل ہوئیں۔یہی وجہ ہے کہ سیدنا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ جب اپنی شخصی زندگی میں مریمی صفات کو طے کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کیلئے ان کو بھی مشرق کی طرف جانا پڑا “ 152 اور جب حضور نے ہوشیار پور میں چالیس دن تک اعتزال و انتباذ کو اختیار فرمائے رکھا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی رحمت کا نشان عطا فرمایا۔پھر حضرت مریم“ کے متعلق فرمایا:۔فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُونِهِمُ حِجَابَاءَ فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيَّا قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَمًا زكيا (مریم: 18 تا 20 ) یعنی حضرت مریم نے خلوت اختیار کی اور ہم نے اپنی روح کو اس کی طرف بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک تندرست بشر کی شکل میں ظاہر ہوئی مریم نے اُسے کہا میں تجھ سے خدائے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تیرے اندر کچھ بھی تقویٰ ہے اس پر اس نے کہا میں تو صرف تیرے رب کا بھیجا ہوا پیغامبر ہوں تا کہ میں تجھے لڑ کا عطا کروں۔ان الفاظ میں لفظ ” روحنا سے مراد محمدی انوار ہیں جو حضرت مریم کے سامنے ایک بشر کی صورت میں متمثل ہوئے اور حضرت مریم انہی انوار کی حامل بنیں۔قرآنِ کریم نے ایک اور انداز سے بھی اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے کہ اور وہ یوں کہ اسمہ کے لفظ کو ایک جگہ احمد کے ساتھ لگایا اور ایک جگہ اسیح عیسی ابن مریم کے ساتھ لگایا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ عیسی بن مریم اور احمد ایک ہی چیز ہیں۔اور پھر اس موقع پر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ متمثل ہونے والی روح نے بچے کی موہبت کو اپنی طرف منسوب کیا ہے یعنی یہ کہا ہے کہ میں تجھے بخشوں گا اور یہ نہیں کہا کہ خدا تعالیٰ تجھے بخشے گا سو حقیقت یہی ہے کہ جس طرح جملہ انبیاء انوار محمد یہ کے پر تو ہیں اسی طرح حضرت مریم بھی انوار محمدیہ کی حامل بنیں اور ان کا بیٹا انہی انوار کا وارث ہو کر ایک طرف ابن مریم اور دوسری طرف غلام احمد کہلایا۔آگے فرمایا۔