معجزات القرآن — Page 76
”“ ہوئی چنانچہ ان کے بارے میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں: و, ہند میں دو واقعہ ہوئے ہیں ایک سید احمد صاحب کا اور دوسرا ہمارا۔اُن کا کام لڑائی کرنا تھا انہوں نے شروع کر دی مگر اس کا اتمام ہمارے ہاتھوں مقد رتھا جو کہ اب اس زمانہ میں بذریعہ قلم ہورہا ہے“ 149 ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 506 جدید ایڈیشن) سواس سلطان القلم نے اپنے علم کلام سے ہر معترض کا منہ بند کیا اور ہر میدان میں ایسی شکست دی کہ کسی کو پھر مقابل میں آنے کی جرات نہ ہوئی قرآن کریم میں يُكَلِّمُ النَّاس کے الفاظ دو وجودوں کے متعلق آئے ہیں ایک حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق اور دوسرے سورۃ نمل میں دابۃ الارض کیلئے۔لہذادابة الارض یعنی یاجوج و ماجوج کے علم کلام کا جواب بج، حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے کسی کے بس کی بات نہ تھی اور یہ سعادت صرف ہمارے حضرت ابن مریم“ کیلئے ہی مقدرتھی سوحضور نے مخالفین اسلام کو ایسے منہ توڑ جواب دیئے کہ وہ قرآن کریم کے الفاظ فَهُمْ لا يَنْطِقُونَ (نمل : 86) کے مصداق ہو گئے اور پھر خَشَعَتِ الْأَصْوَاتُ للرحمن (طه: 109) یعنی خدائے رحمان کے مقابل ان کی آواز میں دب گئیں۔یہاں لفظ رحمن اس لئے فرمایا کہ وہ لوگ تثلیث کے قائل تھے اور تثلیث خدائے رحمان کی شان کے منافی ہے جیسے فرمایا: تَكَادُ السَّمَوتُ يَتَفَطَرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُ الْأَرْضُ وَتَخِرُ الْجِبَالُ هَذَا أَنْ دَعَوْ الِلرَّحْمَنِ وَلَدًا۔(مريم : 91-92) ترجمہ: قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ پڑیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ لرزتے ہوئے گر پڑیں۔کہ انہوں نے رحمن کے لئے بیٹے کا دعویٰ کیا ہے۔حضرت زکریا کے بعد اس سورۃ میں حضرت مریم کا ذکر آیا ہے۔انتَبَذَتْ “ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا ( مريم : 17) یعنی مریم اپنے اہل کو چھوڑ کر مشرق کی طرف نکل گئی۔150 قرآن کریم کے اسلوب بیان کو نہ سمجھنے کے باعث عموماً ان واقعات ماضیہ کو صرف واقعات ماضیہ ہی سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ محض واقعات ماضیہ نہیں بلکہ ماضی کے پردے میں ایسے کنایات ہیں جو اسلام کے مستقبل پر روشنی ڈال رہے ہیں۔قرآن کریم کا یہ عام اسلوب ہے کہ گزشتہ واقعات کو بیان کر کے آئندہ پیش آنے والے کوائف کو ظاہر کرتا ہے۔سو یہاں حضرت مریم“ کا انتباذ جہاں اس واقعہ کو ظاہر کرتا ہے کہ مریم “ اپنے شخصی وجود کے ساتھ اپنے اہل سے دور چلی گئیں وہاں اس حقیقت کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ مریم اپنی صفات اور اخلاق کی رو سے اپنے عہد کی بداخلاقیوں اور برائیوں سے متنفر ہو کر ان لوگوں سے کہیں دور جا چکی تھیں۔اس کیفیت کو قرآن کریم میں حضرت ابراہیمؑ کے متعلق اعتزال سے تعبیر کیا گیا ہے اور حضرت موسیٰ“ کے متعلق لفظ فرار استعمال کیا گیا ہے اور اصحاب کہف کے متعلق ایوا اور اعتزال استعمال کیا گیا ہے۔سو یہ جملہ الفاظ انتباذ ، اعتزال فرار اور ایواوغیرہ اخلاقی قوتوں کو محفوظ کرنے کیلئے استعمال کئے گئے ہیں اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ جہاں کہیں یہ لفظ استعمال ہوتے ہیں وہاں ان کے موصوفات پر رحمت الہی اور موہبت الہی کے نزول کا ذکر کیا جاتا ہے جیسے فرمایا:۔فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَهَبَ لِي رَبِّي حُكْمًا وجَعَلَنِي مِنَ الْمُرْسَلِينَ ( شعراء:22) یعنی جب میں تم سے خائف ہوا تو بھاگ گیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے حکم عطا فرمایا اور رسول بنا دیا۔ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فرار سے صرف ظاہری فرار مراد نہیں بلکہ اس سے مراد وہ روحانی کیفیت بھی ہے