معجزات القرآن

by Other Authors

Page 75 of 126

معجزات القرآن — Page 75

”“ ہے پس آج میں کسی انسان سے گفتگو نہیں کروں گی۔147 گویا حضرت مریم کا یہ قول ملت کی خاموشی کی آخری رات یعنی تیرھویں صدی پر دلالت کرتا ہے اور اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ آج تو میں بات نہیں کرتی لیکن کل کو میرا بیٹا جو یعلم الناس کا مصداق ہے تمہارے ہر سوال کا جواب دے گا۔چنانچہ جب حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا ظہور ہوا تو انہوں نے مخالفین کو ایسے مسکت اور مدلل جوابات دیئے کہ معترضین کا ناطقہ بند کر دیا۔عام طور پر ان کوائف کو واقعات ماضیہ سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ جملہ کوائف ملتِ اسلامیہ کے کوائف ہیں۔ملتِ اسلامیہ کی تیرھویں صدی حضرت مریم " کی طرح در دزہ میں مبتلا تھی اور بے بسی کا یہ عالم تھا کہ کسی سے وہ کلام کرنے کے قابل نہ تھی اور ہر طرف سے لعن طعن اور اعتراضات کی بوچھاڑ ہو رہی تھی اور کسی میں اتنی سکت نہ تھی کہ دشمنوں کا منہ بند کر کے یہ ثبوت دے سکے کہ ملت اسلامیہ حضرت مریم کی طرح صدیقہ ہے اور اس کے تقدس اور پارسائی پر زبان طعن دراز کرنے والے خود خطا کار ہیں۔اس دور کے متعلق سر سید احمد خان کے ذیل کے الفاظ ملاحظہ ہوں۔وہ لکھتے ہیں:۔اگر خدا مجھ کو ہدایت نہ کرتا اور تقلید کی گمراہی سے نہ نکالتا اور میں خود تحقیقات حقیقت پر نہ متوجہ ہوتا تو یقینی مذہب کو چھوڑ دیتا“ ( موج کوثر صفحہ 163 ) اسی دور کے متعلق مؤلف ”موج کوثر“ لکھتے ہیں کہ انیسویں صدی میں بالخصوص غدر کے بعد ہندوستان میں اسلام کو تین خطرے درپیش تھے۔پہلا خطرہ تو مشنریوں کی طرف سے تھا جو اس اُمید میں تھے کہ سیاسی زوال کے ساتھ مسلمانوں کا مذہبی انحطاط بھی “ شروع ہو جائے گا اور توحید کے پیر و تثلیث کو قبول کر لیں گے۔دوسرا خطرہ یورپ اور ہندوستان میں ان خیالات کا اظہار تھا جنہیں دیکھ کر بقول سرسید مرجانے کو جی چاہتا تھا۔یہ لوگ اسلام کو عقل کا دشمن ، اخلاق کا دشمن اور انسانی ترقی کا مانع ثابت کر رہے تھے۔ان میں نہ صرف مشنری بلکہ مغربی یونیورسٹیوں کے پروفیسر اور انگریز حاکم بھی شامل تھے۔جنہیں خدا نے ہندوستانی مسلمانوں کی قسمت سونپ رکھی تھی۔اسلام اور بانی اسلام کے متعلق غالباً بدترین کتاب سرولیم میور کی ہے جو صوبجات متحدہ کے حاکم اعلیٰ تھے اور جنہوں نے اپنی کتاب کا خلاصہ دو فقروں میں لکھ دیا۔انسانیت کے دوسب سے بڑے دشمن محمد کی تلوار اور محمد کا قرآن ہیں (نعوذ باللہ ) تیسرا بڑا خطرہ جو آئندہ اور بھی بڑھنے والا تھا خود مسلمانوں کے دلوں میں طرح طرح کے شکوک وشبہات کا پیدا ہونا تھا اور جن لوگوں کی نظروں سے مشنریوں اور دوسرے عیسائی مصنفوں یا آزاد خیال مغربی مفکروں کی کتابیں گزرتیں وہ اسلام کے بعض مسائل کو جو عام علماء بیان کرتے تھے خلاف عقل سمجھنے لگے اور یہ ڈر تھا کہ اگر چہ وہ اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار نہیں کریں گے لیکن مذہب سے ضرور بریگا نہ ہو جائیں گئے۔148 ( موج کوثر صفحہ۔162-163) خلاصہ یہ کہ یہ صدی کسی سلطان القلم کی تلاش میں تھی لیکن ایسا مر دمیدان کوئی نہ تھا جو دشمنوں کے دلائل کا جواب دے سکے البتہ حضرت سید احمد بریلوی دشمنانِ اسلام کے مقابلے میں تلوار لے کر اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے جہاد بالسیف کے ذریعے ملت اسلامیہ کی حفاظت کرنا چاہی مگر افسوس کہ اس معاملہ میں انہیں چنداں کا میابی نہ