معجزات القرآن — Page 74
”“ 145 فیض یاب ہو گا وہ سعادت مند ہوگا۔اس کے فرزند اور خلیفہ بارگاہِ احدیت کے صدر نشینوں میں سے ہیں۔(حدیقه محمودیه ترجمه روضه قیومیه صفحه 32) یہ کشف حقیقتاً اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ احمدیت کے اس نور کی ابتدا جو ساعةً فساعةً بڑھتا اور روشن ہوتا گیا حضرت مجددالف ثانی سے ہورہی ہے اور اس کی انتہا حضرت بانی سلسلہ احمدیہ پر آ کر ہوئی۔حضرت مجددالف ثانی کو بعض پہلوؤں میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ سے خاص نسبت ہے آپ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی طرح جمعہ کے دن پیدا ہوئے اور پھر حضور کی طرح چودا تاریخ کو پیدا ہوئے۔لہذا سورۃ مریم کی تلاوت کرتے ہوئے اُس کا اس پہلو سے بھی جائزہ لینا چاہئے کہ یہاں سے حضرت مجددالف ثانی" کا ذکر شروع ہو رہا ہے۔اب مزید چند آیات کا ذکر کیا جاتا ہے۔(1) فرمایا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلَامِ نِ اسمه يخى ( مریم : 8 ) اس میں دراصل اسلام کے دوبارہ زندہ ہو جانے کی پیشگوئی ہے۔سورۃ آل عمران میں اِنّ الله يُبَشِّرُكَ بِيَحْنِی فرمایا تھا لیکن یہاں بیٹی کی جگہ پر لفظ غلام رکھا۔کیونکہ اب غلام کا یعنی غلام احمد کا زمانہ قریب آ گیا تھا۔(2) فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرَابِ ( مریم : 12 ) ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زکریا کسی بالا خانے میں رہتے تھے۔ورنہ خرج کے ساتھ لفظ ”علی“ نہ لگتا۔اس کیفیت کے پیش نظر جب حضرت مجددالف ثانی ” کے سوانح کا مطالعہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ انہیں گوالیار کے قلعے کے برج میں قید کیا گیا تھا۔اور آپ تین سال تک قید رہے تھے۔یہ تین سال کی قید وہی تین دن غار ثور والے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصی زندگی پر گزرے تھے۔یہاں تین سال قید سے مراد ملتِ اسلامیہ کا تین صد سال یعنی گیارھویں، “ 146 بارھویں اور تیرھویں صدی میں محصور ہو کر رہ جانا ہے۔اس بنا پر حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا الہام ہے کہ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پناہ گزین ہوئے قلعہ ہند میں“ تذکرہ ایڈیشن طبع چہارم صفحہ 404) پھر حضرت زکریا علیہ السلام کے متعلق یہ کہنا "آلا تُكَلَّمَ النَّاسَ ثَلَثَ لَيَالٍ سَوِيًّا “ (مریم : 11) یعنی یہ کہ آپ متواتر تین راتیں بات نہ کر سکیں گے۔یہ الفاظ بھی درحقیقت دو پیشگوئیوں پر پر مشتمل ہیں۔اول: یہ کہ ملت اسلامیہ گیارھویں، بارھویں اور تیرھویں صدی میں علم کلام کے جوہر سے بے بہرہ ہو کر رہ جائے گی اور یہ تینوں صدیاں اسلام کے لئے تاریکی کی صدیاں ہوں گی۔دوسری : پیشگوئی یہ ہے کہ ان تین راتوں کے بعد یحیی پیدا ہوگا یعنی اسلام میں حیات نو کے آثار پیدا ہو جائیں گے اور وہ بیٹی اُس وقت تک پیدا نہ ہوگا جب تک تین راتیں نہ گزر جائیں اور یہ تین راتیں ملتِ اسلامیہ کے لئے نہایت تاریکی کی راتیں ہیں۔اگر ان راتوں کو لیلتہ القدر کے پیمانے کے مطابق جو ایک ہزار ماہ کی ہوتی ہے ماپا جائے تو تین راتوں کے 250 سال بنتے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ جس بیٹے کی بشارت دی جارہی ہے وہ الف محمدی کے بعد دوسو پچاس سال گزرنے پر پیدا ہوگا۔سو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی پیدائش 1250ھ میں ہوئی۔اور اگر ان تین راتوں کو پوری تین صدیاں تصور کیا جائے تو چودھویں صدی سے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا علم کلام نہایت آب و تاب سے سامنے آ گیا۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مریم کے متعلق کہا گیا ہے کہ انسيَّا فَقُولِى إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمَنِ صَوْمًا فَلَنْ أَكَلِمَ الْيَوْمَ (مریم: 27) ترجمہ: تو کہہ دے کہ یقیناً میں نے رحمان کے لئے روزے کی منت مانی ہوئی