معجزات القرآن — Page 71
”“ 139 “ 140 چھوڑ گئے اور اُمت سے اس کو یہ نسبت ہے کہ اُمت ایک نئے علمی دور میں داخل ہونے لگی اور خلافت محمد یہ قریش سے نکل کر غیر از قریش قوم کی طرف منتقل ہونے لگی۔سورۃ بنی اسرائیل کے بعد سورۃ کہف ہے۔اس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت وہی مقام ہے جبکہ حضور غار ثور کی تاریکی میں پناہ گزین ہوئے اور ملت میں اس کا وہ مقام ہے جبکہ اسلام قلعہ ہند میں آکر محصور ہوا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی فرمایا ہے ” اَصْحَبُ الْكَهْفِ أَعْوَانُ الْمَهْدِي (در منثور جلد چہارم صفحہ 215) سورۃ کہف کے بعد سورۃ مریم ہے۔اس کا مقام وہی ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غار ثور سے نکل کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے اور ملت میں اس کا مقام یہ ہے کہ مریمی صفات مشرق کی طرف منتقل ہوئیں اور ملت اسلامیہ دردزہ میں مبتلا ہوئی کیونکہ وہ بچہ جننے کی تکلیف میں تھی۔0 یادر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں مومنین کو دو عورتوں سے تشبیہ دی ہے۔ایک فرعون کی بیوی سے اور دوسری مریم سے۔فرعون کی بیوی سے مراد ملتِ اسلامیہ کے وہ افراد ہیں جو کسی ظالم حکومت کے تحت ہوں اور اپنے فرائض مذہبی کے ادا کرنے سے قاصر ہوں۔اور مریم سے مراد وہ مؤمنین ہیں جو کسی ظالم حکومت کے تحت تو نہ ہوں لیکن اُن کا اپنا معاشرہ اس قدر گندا اور بدکردار ہو چکا ہو کہ اس میں اپنے جذبات کو مار کر روحانی زیست کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے پڑیں جیسے گیارھویں، بارھویں اور تیرھویں صدی کے اہل اللہ کا مقام ہے۔ان میں قابل ذکر حضرت مجدد الف ثانی ، حضرت سید ولی اللہ شاہ محدث دہلوی اور سید احمد بریلوی ہیں۔یہ سارے بزرگ مریمی صفات کے حامل تھے اور انہیں کا دور ابن مریم کا حامل تھا۔اصل حقیقت یہ ہے کہ اسی عبوری دور کو سورۃ فاتحہ میں لفظ صراط سے تعبیر کیا گیا ہے جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔پھر یہ بھی یادر ہے کہ حدیث شریف میں آیا ہے:۔إِنَّ اللهَ زَوَجَنِى مَرْيَمَ بِنْتَ عِمران۔۔( تفسیر فتح البیان جلد 7 صفحه 99) ظاہر ہے کہ یہ روحانی زوجیت ہے نہ کہ جسمانی۔حضرت امام علیہ السلام کا بھی الہام ہے۔يَا مَرْيَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ۔يَا أَحْمَدُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 55) یہ الہامات بتاتے ہیں کہ احمد ومریم زوجین ہیں۔بالآخر گزارش ہے کہ یہ ایک لمبا مضمون ہے۔خاکسار اس بارے میں دو کتابیں لکھ چکا ہے لیکن ابھی وہ شائع نہیں ہوئیں۔ایک کتاب کا نام ”ہمارا قرآن اور اُس کا اسلوب بیان ہے اور دوسری کا نام ہے تفسیر قرآن حروف مقطعات کی روشنی میں یہ دونوں کتابیں دراصل اسی کتاب کی فرع ہیں۔جب تک یہ اصل کتاب جو آپ کے ہاتھ میں ہے ذہن نشین نہ ہو باقی دو کتابوں کا شائع کر ناقبل از وقت ہوگا۔اس موقع پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ سورۃ یونس سے سورۃ طہا تک جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے یہ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کا عکس ہے۔حضور کی مکی زندگی کے اہم نکات حسب ذیل ہیں۔اول : تین سال اخفا کے۔دوم : ساتویں سال شعب ابی طالب میں محصور ہوجانا اور تین سال تک محصور رہنا۔یہی وجہ ہے کہ ملت کی ساتویں صدی میں بغداد کا محاصرہ ہوا اور ہلاکو خاں نے متعصم باللہ کو ہلاک کر دیا۔سوم : دسویں سال نبوت میں حضرت خدیجہ اور حضرت ابوطالب فوت ہو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بے یارومددگار رہ گئے۔یہی حال دسویں صدی میں اسلام