معجزات القرآن — Page 59
”“ آئے گا۔1000 غ 426 ملك الم - الم الم الم الم - الم ج 115 بقره ، آل عمران ، الاعراف عنکبوت، روم لقمان وو اس موقع پر یہ امر قابل ذکر ہے کہ حرف ”ص “بانی سلسلہ احمدیہ کی جمالی شان کا حامل ہے اور حرف ”طا جلالی شان کا۔گویا حرف ” ص“ آپ کو مسیح ناصری سے مشابہت دیتا ہے اور حرف ”طا “ آپ کی مہدوی شان کو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مشابہت دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ حرف’طا کے تحت جو سورتیں آئی ہیں ان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کی باہم کشاکش دکھائی گئی ہے۔طواسیم والی سورتیں حرف ”طا“ کے تحت ہیں اور الحمد والی سورتیں حرف ص “ کے تحت ہیں۔یہی وجہ ہے کہ لفظ ” ملك “ سورۃ روم کے مقابل آ گیا۔تا ظاہر ہو کہ قوم روم کے فساد کو مٹانے والا یہی مسیح ابن مریم ہے۔حرف ”طا “ اور حرف ”ص‘ کی حقیقت کے متعلق جو کچھ ہم نے لکھا ہے اس کا علم ہمیں حضرت سید ولی شاہ صاحب محدث دہلوی کی کتاب ”الفوز الکبیر سے حاصل ہوا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ حروف مقطعات میں حرف ص “ اور حرف طا، پستی سے رفعت کی طرف حرکت کرنے کو ظاہر کرتے ہیں۔دونوں میں فرق یہ ہے کہ حرف ”طا میں فخامت اور عظمت پائی جاتی ہے اور حرف ”ص“ میں لطافت اور صفائی پائی جاتی ہے۔وو ( الفوز الکبیر۔باب چہارم حروف مقطعات قرآن صفحه (222) پھر دیکھئے کہ اسمه احمد کی بشارت حضرت عیسی علیہ السلام نے دی تھی۔سو “ 116 حروف مقطعات ہمیں یہ بھی سمجھاتے ہیں کہ جس وجود کی بشارت دی گئی تھی وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے سن 1834 عیسوی کے بعد پیدا ہوا اور 1303 ہجری میں اسم احمد " کا مصداق ہوا۔سورۃ مریم میں حرف ”ص‘ اس حقیقت کا حامل ہے۔تفصیل ملاحظہ ہو۔" آپ سورۃ بقرہ سے سورۃ مریم تک کے تمام حروف مقطعات کے اعداد کو شمار کریں۔جب آپ سورۃ مریم کے حروف کھیعص تک پہنچیں گے تو حرف ”ع“ پر پورے 1834 سال آپ کے سامنے آجائیں گے۔گویا حرف ”ع“ پر جو لفظ عیسی کا پہلا حرف ہے حضرت مسیح ناصری کا زمانہ ختم ہو جاتا ہے۔آگے 1835 سے جو بانی سلسلہ احمدیہ کا سن پیدائش ہے ہمارے سامنے آجاتا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ سورۃ مریم کا حرف ص “بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کی حیات طیبہ کا مظہر ہے۔اور اس کی پہلی اکائی حضور کے سن پیدائش 1835 کو ظاہر کرتی ہے جیسا کہ سورۃ فاتحہ میں لفظ مالک یا ملک مظہر ہے۔پھر 1834 میں جب حرف ”ص‘ کا عدد 90 جمع کیا جائے تو 1924 کے اعداد ہمارے سامنے آجاتے ہیں اور جب ان اعداد میں سے 621 کے اعداد جو عیسی علیہ السلام کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت تک کی مدت کو ظاہر کرتے ہیں خارج کر دیئے جائیں تو باقی وہی 1303 سال رہ جاتے ہی جن کا ذکر پہلے آ گیا ہے۔وو اصل بات یہ ہے کہ قرآن شریف نے حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے زمانے کی نشاندہی کے لئے دوطریق اختیار کئے ہیں۔اول۔یہ کہ سورۃ یونس سے ماقبل کے اعداد کو جو 303 ہیں سورۃ فاتحہ کی طرح 1000 سال کے بعد لفظ صراط کی جگہ رکھا جائے تو اس طرح بجائے 1300 کے 1303 ہجری کا سن ہمارے سامنے آجاتا ہے۔دوسرا طریق یہ ہے کہ مسیح ناصری کے