معجزات القرآن

by Other Authors

Page 58 of 126

معجزات القرآن — Page 58

”“ 113 اس موقع پر شاید کوئی یہ اعتراض کرے کہ اس طرح تو قرآن شریف کی وضعی ترتیب میں فرق پڑ جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اصل ترتیب اپنی جگہ قائم ہے۔البته قرآن شریف کی معجزانہ شان کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ان سورتوں کو حروف مقطعات کی دی ہوئی ترتیب کی روشنی میں دیکھا جائے تا کہ ظاہر ہو کہ قرآن شریف زمانہ کے مطابق بھی چل رہا ہے اور خدا تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت بھی پائی جاتی ہے۔یہ وہ حقیقت ہے جس کی قرآن شریف نے بھی ہمیں ان الفاظ میں توجہ دلائی ہے۔اللهُ نَزَلَ اَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِها مَّثَانِي (الزمر : 24) یعنی اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی حسین ترین کتاب نازل فرمائی ہے جس کی سورتیں باہم مشابہت رکھتی ہیں اور ایک دوسرے کے متوازی واقع ہو کر چلتی ہیں۔لہذا قرآن شریف کا یہ پہلو بھی اپنی ذات میں ایک معجزانہ شان کا حامل ہے۔حروف مقطعات میں سب سے بڑی لائن وہ ہے جو سورۃ یونس اور سورۃ حجر میں اتصال پیدا کرتی ہے۔اس کی عددی قیمت 1426 ہے اور یہ عجیب بات ہے کہ لفظ یونس کے اعداد 126 ہیں گویا اس میں یہ اشارہ ہے کہ 1426 کے اعداد تین حصوں میں منقسم ہیں۔پہلا حصہ 1300 کا ہے، دوسرا 26، تیسرا 100 کا۔گویا اس رنگ میں 1326 سال الگ دکھائے گئے ہیں اور 100 سال زائد دکھائے گئے ہیں۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کا وصال 1326 میں ہوا اور سورۃ فاتحہ کے مطابق یہ 1326 سال لفظ مالک کے بعد سامنے آتے ہیں۔لفظ مالک پر 1325 سال ختم ہوتے ہیں اور آگے يَوْمِ الدِّینِ کے کلمات ہیں ان کی عددی قیمت 151 “ 114 ہے۔ان کلمات میں حرف ”ن“ کا عدد 50 ہے الْحَمْدُ سے يَوْمِ الدِّینِ کے کلمات کی عددی قیمت حرف ”ن“ سمیت 1476 ہے۔حروف مقطعات نے ان 1476 کے اعداد میں سے حرف ”ن“ کے عدد 50 کو الگ کر دیا ہے اور چودہ سو چھہتر کی بجائے 1426 کے اعداد ہمارے سامنے رکھے ہیں تا ظاہر ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سن وصال کے بعد پورا 100 سال جزا سزا کا دن ہے جس میں سے اب 1396 کے بعد صرف 30 سال باقی رہ گئے ہیں۔ان 30 سالوں کے اندراندر دنیا کی تمام قوموں کا حساب کتاب مکمل ہو جائے گا اور جو حکومتیں آج دُولِ گبری کہلاتی ہیں اُن کی کبریائی خاک میں مل جائے گی۔چھوٹے بڑے کئے جائیں گے اور بڑے چھوٹے کئے جائیں گے۔ملتِ اسلامیہ کے سر سے کالی رات چھٹ جائے گی اور صبح صادق کا ظہور ہوگا۔یہ 1426 کے اعداد دراصل 1000 سال کے بعد چھ الحد کے اعداد کا مجموعہ ہیں اور یہ چھ الیہ مندرجہ ذیل سورتوں کے ہیں۔1۔بقرۃ۔2۔آل عمران۔3۔الاعراف۔-4 عنکبوت - 5- الروم - 6 - لقمان اور سورۃ الاعراف میں جو حرف وو 66 ”ق“ موجود ہے یہ وہی حرف ص ہے جس کو ہم سورۃ فاتحہ میں غلام الحد۔البَص کے رنگ میں پیش کر چکے ہیں جن کی عددی قیمت 1303 ہے اور جو حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی 53 سالہ عمر کو ظاہر کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ یہی وہ ہستی ہے جو احمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسمه احمد کی مصداق ہے۔حرف ” ص“ کی جگہ ہم لفظ ملک رکھ سکتے ہیں اور یہ لفظ اپنے عدد کے اعتبار سے چوتھی سورۃ عنکبوت کے حروف الحمد کے عدد 71 سے متجاوز ہو کر سورۃ الروم کے مقابل آجاتا ہے اور اس کے بعد سورۃ لقمان کا زمانہ شروع ہو جاتا ہے۔لہذا 1426 کے عدد کو اگر ہم 1426 میل کی لمبی سڑک تصور کر لیں تو نقشہ ذیل کی صورت میں ہمارے سامنے