معجزات القرآن — Page 50
”“ کا پورا آپ کو ملا۔اور 1326 میں آپ کا وصال ہو گیا۔97 97 غور فرمائیے یہ کتنی عجیب کیفیت ہے کہ آپ کی تحریرات کے مطابق سورۃ فاتحہ کا عددی پہلو آپ کو صفت مالکیت کا مظہر ٹھہرا رہا ہے۔لفظ مالک کے بعد یوم الدین کے اعداد 151 ہیں گویا آپ کے سن وصال 1326 کے بعد 150 سال کا زمانہ یوم الدین کا زمانہ ہے اور یہ زمانہ 1476 ھ تک ممتد ہے لیکن حروف مقطعات نے اس کی تفسیر 1426 تک کی ہے اور حرف ”ن“ کے عدد 50 کو گو یا الگ ظاہر کیا ہے۔اس کی تفصیلی بحث آگے آئے گی۔66099 حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام کا دعوئی یہ تھا کہ سورۃ فاتحہ مسیح موعود کے زمانے کی خوشخبری دیتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا فعل یہ ہے کہ آپ کو بحساب شمسی 1213ھ کے بعد پیدا فرمایا۔اس کی تصدیق حروف مقطعات میں غلام - الحد۔الم کے کلمات کی صورت میں پیش کی۔ان کلمات کے اعداد 1213 ہیں اور حضور 1214 میں پیدا ہوئے۔سورۃ فاتحہ کے پیش نظر یہ غلام حمد ملک کے اعداد میں گویا 1214 کے عدد کی نشاندہی کی۔قمری حساب کی رو سے آپ 1250 میں پیدا ہوئے۔اس سن کی تصدیق غلام الحمد للہ 1250 کے کلمات نے کی پھر غُلامُكَ اسمه احمد 1250 اور صِرَاط مُسْتَقِیم صراط 1250 کے کلمات نے کی پھر آپ جب 47 سال کی عمر کو پہنچے تو صفات اربعہ اور غار انطاکیہ کے اعداد نے آپ کی تصدیق کی اور جب پورے 50 سال کے ہوئے تو سورۃ فاتحہ میں لفظ غیر 1210 اور حرف ص 90 کے اعداد سے آپ کا زمانہ دکھا دیا اور بتایا کہ سورہ مریم میں مسیح محمدی کا ذکر ہے۔پھر اسی سورۃ میں اس 1300 سن کو حرف غ۔1000 اور لفظ صراط۔300 میں ظاہر فرمایا اور ساتھ ہی بتایا کہ سورۃ طہ مہدی علیہ السلام کی چودھویں صدی کو متعین کرتی ہے۔“ 98 90 اس کے علاوہ قدرت خداوندی کا ایک اور معجزانہ نظارہ ملاحظہ فرما دیں اور پھر دیکھیں کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام کے کلمات میں اور سورۃ فاتحہ کے کلمات میں با ہم کس قدر مطابقت ہے حالانکہ آپ کو کبھی یہ خیال بھی نہ آیا تھا کہ سورۃ فاتحہ کے اعداد میں بھی ” غلام احمد قادیانی کے زمانہ ظہور کی تصدیق موجود ہے۔آپ اپنی کتاب ازالہ اوہام میں فرماتے ہیں :۔1300 چند روز کا ذکر ہے کہ اس عاجز نے اس طرف توجہ کی کہ کیا اس حدیث کا جو اَلا يَاتُ بَعْدَ الْمأْتَيْنِ ہے ایک یہ بھی منشا ہے کہ تیرھویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہوگا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعدادِ حروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرھویں صدی کے پورا ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے غلام احمد قادیانی اس نام کے عدد پورے 1300 ہیں۔“ 6 6 (ازالہ اوہام حصہ اول۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 190-189) آپ کے اس کشف میں اللہ تعالیٰ کے قول اور فعل میں مطابقت کا بین ثبوت موجود ہے۔آپ نے اپنا نام خود نہیں رکھا اور نہ ہی اپنی مرضی سے قادیان میں پیدا ہوئے اور پھر ” غلام احمد قادیانی کے حروف میں 1300 کے اعداد رکھنا آپ کا اپنا کام نہ تھا۔پھر اس کے مقابل سورۃ فاتحہ دیکھیں کہ وہ بھی آپ کے زمانہ ظہور کے لئے لفظ غلام کے حرف غ‘ کی طرح حرف غ‘اور لفظ صراط میں آپ کی بعثت کا 1300 سال کا زمانہ دکھاتی ہے۔پھر لفظ غیر اور حرف ”ص“ میں اسی زمانے کو متعین کر دیا ہے۔پھر حرف ”ص کو لفظ ملک کا قائم مقام ٹھہرا کر بتایا ہے کہ آپ صفت