معجزات القرآن

by Other Authors

Page 48 of 126

معجزات القرآن — Page 48

“ 1073 کے اعداد ملائے تو 2370 کے اعداد سامنے آئے۔93 اس سے پہلے ملتِ اسلامیہ کی مجموعی عمر 2373 سال دکھائی گئی تھی جو الحمد سے لے کر اھدنا تک کے کلمات میں مضمر ہے۔دونوں حسابوں میں تین اکائیوں کا فرق ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ صفات اربعہ کے تحت جو حساب رکھا گیا ہے اُس میں آخری صدی شمسی دکھائی گئی ہے کیونکہ شمسی حساب کی ایک صدی قمری حساب سے 103 سال بنتی ہے۔لہذا دونوں حسابوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔دوسری بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ پہلے حساب میں الحمد الله اور ايَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے کلمات شامل رکھے گئے تھے تا یہ ظاہر ہو کہ دونوں نشا تیں لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأَوْلَى وَالْآخِرَةِ کی مصداق ہیں اور تحمید الہی اور توحید میں برابر کی شریک ہیں لیکن اس دوسرے حساب میں جو صفات اربعہ کے تحت آیا ہے۔دونوں نشاتوں کی الگ الگ خصوصیات دکھائی گئی ہیں۔نشاۃ اولی کے متعلق کہا گیا ہے کہ اُس کا کام دنیا کو اللہ تعالیٰ کی صفات اور ذات سے متعارف کرانا تھا اور دوسری نشاۃ کے متعلق یہ بتایا گیا ہے کہ اُس کا کام ضالین کا یعنی عیسائیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔اور اس بات کا ثبوت مہیا کرنا ہے کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ابن مریم سے کہیں برتر ہیں۔بالفاظ دیگر یوں کہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقصدِ زندگی حمد اللہ تھا اور آپ احمد اللہ ( اللہ کی سب سے بڑھ کر حمد کرنے والے) تھے اور نشاۃ ثانیہ کے بانی کا کام حمد احمد ہے۔یا یوں کہیں کہ آپ احمد احمد اللہ ہیں۔یعنی آپ کا مشن یہ ہے کہ آپ احمد مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑھ کر حمد کریں۔تیسری بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ سورۃ العصر نے ہمیں بتایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جب وصال ہوا تو اس وقت حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش پر 4740 سال گزر چکے تھے۔یہ بات عجیب ہے کہ صفات اربعہ کے تحت جو حساب آیا ہے اور جس کے اعداد 2370 ہیں 4740 کا پورا نصف ہیں۔جس کے معنی یہ “ 94 ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال پر عمر دنیا کا پورا دو تہائی حصہ گزر چکا تھا اور حضور کے وصال کے بعد صرف ایک تہائی عمر د نیا باقی تھی۔چوتھی بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ 2370 کے اعداد کو اگر 4730 کے اعداد تا ہجرت میں جمع کیا جائے تو پورے 7100 سال سامنے آتے ہیں۔ان اعداد سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے اگر امت محمدیہ کا حساب لیا جائے تو عمر دنیا 7100 سال کی صورت میں سامنے آتی ہے اور اگر حضور کے سن وصال سے لیا جائے تو عمر دنیا 4740+2370=7110 سال کی صورت میں ہمارے سامنے آتی ہے اور اگر ملتِ اسلامیہ کی 2373 سال کی عمر کو 4740 میں جمع کیا جائے تو پھر عمر دنیا 7113 سال کی صورت میں ہمارے سامنے نظر آتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ عمر دنیا پورے 7113 سال ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ آخری دس سال کو ملت کی عمر میں شمار نہیں کرانا چاہتا کیونکہ وہ دس سال روحانیت سے بالکل خالی ہوں گے اور وہ ایسے لوگوں کا زمانہ ہو گا جو اپنے اخلاق و اطوار کے اعتبار سے خنازیر اور قردۃ کے مشابہ ہوں گے۔لہذا ان دس سالوں کو خارج کرنے کے بعد دنیا کی عمر 7103 سال رہ جاتی ہے۔جس میں سے 2373 سال ملتِ اسلامیہ کی عمر کے ہیں۔لیکن ان آخری تین سالوں کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ ہمیں اختیار دیتا ہے کہ چاہو تو آخری تین سال شمار کرو اور چاہو تو نہ کرو۔پانچویں بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ صفات اربعہ کے اعداد جو 1297 ہیں حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام کی 47 سال کی عمر کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ وہ زمانہ ہے جب کہ آپ اپنی شہرہ آفاق کتاب ” براہینِ احمدیہ کی تألیف مکمل فرما چکے تھے۔آپ نے اس کی تکمیل کی تاریخ ذیل کے شعر میں بیان فرمائی۔از بس کہ یہ مغفرت کا دکھلاتی ہے راہ تاریخ بھی یا غفور نکلی واہ واہ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 208) 1297