معجزات القرآن — Page 47
”“ 91 یعنی غلام احمد نے اللہ تعالیٰ کی تعریف کی۔ان کلمات کے اعداد بھی 1303 ہیں۔ایسے ہی احمد غُلامُكَ اسمه احمد کے اعداد بھی پورے 1303 ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ اے احمد! تیرے غلام کا نام بھی احمد ہے۔ایسے ہی صراط احمد صِرَاطٌ مُستَقِیم کے اعداد بھی 1303 ہیں۔ان الفاظ کے معنی یہ ہیں کہ احمد کی راہ سیدھی راہ ہے۔اس کے علاوہ غُلَامُكَ يَوْمِ الدِّينِ هَدنا کے اعداد بھی 1303 ہیں۔پھر عجیب بات یہ ہے کہ جس سورۃ میں اسمہ احمد کی پیشگوئی آئی ہے اسی سورۃ مينَ وَأُخْرَى تُحِبُّونَهَا نَصْرُ مِنَ اللہ وَفَتْحٌ قَرِيب “ کے الفاظ بھی آئے ہیں یعنی ہم تمہیں ایک اور خوشخبری دیتے ہیں اور وہ یہ کہ نَصْرُ مِنَ اللهِ وَفَتْحٌ قَرِيب“ ان کلمات کے اعداد بھی پورے 1303 ہیں۔یہی وجہ ہے کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ کو الہام ہوا:۔يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ جَاءَ كُمْ نَصْرٌ مِّنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ ( تذکره صفحه 229 طبع چہارم) یعنی اے اہل مدینہ تم میں ایک ایسا انسان آ گیا ہے جو خدا کی نصرت اور فتح مندی کی شان اپنے ساتھ رکھتا ہے۔یہ الفاظ عہد نبوی میں اپنے اندر یہ بشارت لئے ہوئے تھے کہ جب تم انصار اللہ ہو تو خدا بھی تمہارا ناصر ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبوت کے چودھویں سال مدینہ میں تشریف لائے۔ایسے ہی 1400 سال کے بعد آپ کا جمال دوبارہ ظہور پذیر ہوا۔اس لئے چودھویں صدی میں جو اہل اللہ آپ کی نفرت کے لئے کھڑے ہو گئے وہ انصار اللہ کہلائے اور یہ چودھویں صدی کا نیا تہذیبی اور تمدنی دور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدنی زندگی کا ظل ٹھہرا اور جس طرح مدینہ کے یہوداہل کتاب تھے اسی طرح اسلام کی اس نشاۃ ثانیہ کا دور بجائے تلوار کے قلم کا “ 92 92 دور ٹھہرا اور خلاف اسلام کتابوں کا جواب کتابوں کی صورت میں دیا جانے لگا۔اسی طرح آپ کا ایک اور بھی الہام ہے جو اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا آغاز چودھویں صدی سے ہوگا اور اس نشاۃ کا بانی چودھویں صدی میں تشریف لائے گا اور وہ الہام یہ ہے۔طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَّةِ الْوَدَاعِ ( تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 481) یہ الہام در اصل اُسی آواز کی ترجمانی ہے جو اہل مدینہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کے موقع پر آپ کو خوش آمدید کہنے کے لئے بلند کی تھی۔حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام کے کچھ اور کلمات بھی ایسے ہیں جن کا تعلق سورۃ فاتحہ سے ہے۔بہتر ہوگا کہ ہم اُن کا بھی جائزہ لیں۔ممکن ہے کہ ان کے عددی پہلو میں بھی کوئی معرفت مخفی ہو۔آپ فرماتے ہیں۔میں نے سورۃ الفاتحہ ( جس کو اُمّ الکتاب اور مثانی بھی کہتے ہیں اور قرآن شریف کی عکسی تصویر اور خلاصہ ہے ) کے صفات اربعہ میں دکھانا چاہا ہے کہ وہ چاروں نمونے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں موجود ہیں اور خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں ان صفات اربعہ کا نمونہ دکھایا گویا وہ صفات دعوئی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود بطور دلیل کے ہے“۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 333 ، 334 جدید ایڈیشن) خاکسار نے چار صفات یعنی رَبّ العلمين 436، الرحمن - 330 الرَّحِيم - 289 ، مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ - 242 کے اعداد کا جائزہ لیا تو 1297 کے اعداد سامنے آئے۔ان اعداد کے ساتھ جب اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ