معجزات القرآن

by Other Authors

Page 46 of 126

معجزات القرآن — Page 46

”“ 80 89 اللہ۔اللہ ! یہ کیا عجیب ماجرا ہے۔ذرا سوچیے تو سہی کیا حضرت بانی جماعت احمدیہ نے یہ 1214 کا شمسی سن اور یہ 1250 کا قمری سن اپنی پیدائش کے لئے آپ مقر فر ما دیا تھا اور کیا راقم الحروف نے اس بارے میں کسی بے جا تصرف سے کام لیا ہے؟ ہرگز نہیں۔اصل بات یہ ہے کہ یہ خدا کے قول اور فعل میں مطابقت کا ایک پاکیزہ منظر ہے۔اگر کسی کو شبہ ہو تو اور آگے چلئے اور پھر دیکھئے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ 1303 کے عدد کو آپ کے سامنے لاتا ہے اور یہ عدد وہ ہے جس میں آپ اسم احمد کے مصداق ہوئے یعنی آپ کی عمر 53 سال کی تھی۔آپ کو معلوم ہے کہ سورۃ اعراف میں الحد کے ساتھ حرف ص بھی لگا ہوا ہے۔یعنی حرف ص اولاً آنحضرت ایم کی بعثت اولی کا مظہر ہے اور پھر یہی حرف ثانیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانیہ کا مظہر بن کر سورۃ مریم کے حرف ص کے متوازی واقع ہوتا ہے۔سورۃ فاتحہ میں لفظ غیر کے بعد حرف ص پر 1300 سال ختم ہوتے دکھائے گئے تھے اور تیرھویں صدی کے خاتمے کا آخری نقطہ اور چودھویں صدی کا ابتدائی نقطہ ہمارے سامنے لایا گیا تھا لیکن حروف مقطعات میں اسمه احمد والی پیشگوئی کے پیش نظر یہاں بجائے 1300 کے 1303 کا عدد سامنے لایا جا رہا ہے اور وہ اس طرح کہ آپ غلام 1071 المھ۔71 ، کے بعد المص۔161 کے حروف لکھ دیں۔یہ سورۃ الاعراف کے حروف ہیں اور ان کی مجموعی قیمت 1303 اس موقع پر یہ خیال رہے کہ لفظ غلام میں حرف غ کے بعد جو تین حروف پائے جاتے ہیں یہ وہی الھم ہیں جو سورۃ بقرہ میں آئے ہیں اور دوسرا الحد وہ ہے جو سورۃ آل عمران میں آیا ہے اور تیسرا المص وہ ہے جو سورۃ اعراف میں آیا ہے۔غلام اور الحمد للہ کی ترکیبی کیفیت ہمیں دو فائدے پہنچاتی ہے۔اول یہ کہ 1250 سے ماقبل کا زمانہ بھی ایک غلام کا زمانہ ہے اور اس غلام کا کام اللہ تعالیٰ کی حمد ہے۔“ 90 90 ہے یعنی اُس کا کام یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات سے بنی آدم کو اس طرح متعارف کرائے کہ اُس میں نقص یا عیب یا کمزوری کا کوئی شائبہ نظر نہ آئے بلکہ اس کے با عکس ہر کمال اور ہر خوبی اور ہر طرح کی حمد سے اُس کی ذات پاک متصف نظر آئے۔دوسرا فائدہ یہ پہنچتا ہے کہ ممکن ہے کہ ان کلمات میں اسمہ احمد والی پیشگوئی کی طرف اشارہ ہو۔چنانچہ جب میں نے اس طرف توجہ کی تو میرے ذہن میں فوراً بغیر کسی تدبر کے غَلَامُكَ اسمه احمد کے اعداد آ گئے۔جب میں نے ان کے اعداد شمار کئے تو وہ بھی پورے 1250 تھے۔پھر مجھے خیال آیا کہ حضرت بانی جماعت احمد یہ علیہ السلام نے لکھا ہے کہ : یہ ہمارے زمانے کی طرف ایما ہے اس وقت صراط وو مستقیم یہی ہے جو ہماری راہ ہے۔( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 397 جدید ایڈیشن) چنانچہ صراط 300 ، مستقیم - 650،صراط۔300 کے کلمات میرے سامنے آئے اور ان کے اعداد بھی پورے 1250 ہیں۔ان کلمات کو بے معنی اعداد نہ سمجھئے بلکہ ان کے معنی یہ ہیں کہ صحیح راہ اُس شخص کی ہے جو فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ کے امر پر اس طرح عمل پیرا ہو کہ کوئی کمی واقع نہ ہو۔سو مستقیم سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک وجود ہے اور یہاں یہ لفظ بطور علم کے استعمال ہوا ہے۔اب اگر آپ چاہیں تو ان جملہ کلمات کے ساتھ جن کا عدد 1250 ہے لفظ احمد اس طرح بڑھا دیں کہ معنی میں کوئی فرق نہ آئے تو پھر بھی 1303 کا عدد آپ کے سامنے آجائے گا۔مثلاً : حَمدَ الْغُلَامُ أَحْمَدُ لِلهِ