معجزات القرآن — Page 43
”“ 83 در حقیقت یہ جملہ پیشگوئیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے ماخوذ ہیں جس میں فرمایا : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَضَتْ الْفُ وما كان وَارْبَعُونَ سَنَةً يَبْعَثُ اللهُ الْمَهْدِى۔( النجم الثاقب جلد 2 صفحہ 209) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب ایک ہزار اور دوسو چالیس سال گزرجائیں گے تو اللہ تعالیٰ مہدی کو مبعوث فرمائے گا۔سورۃ فاتحہ کے فیصلہ کے بعد ہمیں کسی پیشگوئی کے اندراج کی ضرورت یہ تھی لیکن یہ پیشگوئیاں اس غرض سے درج کی گئی ہیں تا کہ کوئی شخص اپنے قلت تذبر کے باعث ہم پر یہ الزام نہ لگا سکے کہ ہم نے سورۃ فاتحہ میں معاذ اللہ بے جا تصرف کر کے لفظ غیر کو سورۃ فاتحہ کے ان کلمات کے جو الحمد سے اھدنا تک ہیں اور جن کے مجموعی اعداد 2373 ہیں اُن کی ابتدا میں بلا وجہ متوازی رکھا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جس طرح قرآن شریف اپنی تفسیر آپ کرتا ہے اسی طرح سورۃ فاتحہ بھی اپنی تفسیر آپ کرتی ہے۔اور اسی بناء پر سورۃ فاتحہ کو اور قرآن شریف کو مثانی کا نام دیا گیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ بعض آیات بعض آیات کے متوازی ہو کر دولائنیں بنالیتی ہیں اور اس طرح یہ دونوں لائنیں ایک دوسرے کی تفسیر اور تشریح کرتی ہیں۔اہل اسلام کی پیشگوئیوں کے علاوہ عیسائیوں نے بھی حضرت مسیح علیہ السلام کی تشریف آوری کے وقت کے متعلق پیشگوئیاں کی ہوئی ہیں۔چنانچہ لکھا ہے:۔” یہودی گماشتے دنیا کے گوشے گوشے میں بھیجے جارہے ہیں کہ “ یہودیوں کو فلسطین کی مراجعت کے لئے جمع کریں۔میں تمہیں غیر قوموں سے نکال لوں گا۔۔۔اور میں تمہیں ایک نیا دل بخشوں گا اور ایک نئی روح تمہارے اندر ڈالوں گا اور تمہارے گوشت میں سے سنگین دل کو نکال ڈالوں گا اور گوشتین دل تمہیں عنایت کروں گا“۔(حزقیل 24:36_28) اس پیشگوئی کے اندراج کے بعد اسی صفحہ پر مؤلف کتاب ھذا لکھتے ہیں:۔” یہودی آئے تو اپنی سابقہ حالت ہی میں تھے لیکن اب بہتوں نے اپنی واپسی کے بعد سے مسیح کو قبول کر لیا ہے۔“ 84 ( مقررہ وقت۔مؤلفہ لیفٹینٹ کرنل ایف۔ڈی۔فراسٹ - صفحہ 95 ایڈیشن اول 1927ء مترجم ایف ایم نجم الدین اختر ) ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ یہودفلسطین میں جمع ہونے کے بعد مسیح پر ایمان لائیں گے اور ظاہر ہے کہ یہ ایمان مسیح کی آمد ثانی کے بعد ہوگا چنانچہ قرآن شریف میں بھی یہ پیشگوئی موجود ہے جیسے فرمایا:۔فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيفًا - ( بنی اسرائیل: 105) یعنی جب عیسی ابن مریم آگئے تو پھر تمہیں ہم تمہارے منتشر ہونے کے بعد اکٹھا کریں گے۔سواسی پیشگوئی کا نتیجہ ہے کہ قوم یہود فلسطین میں جمع ہو رہی ہے۔قرآن شریف کے لفظ وَعُدُ الْآخِرَةِ سے مراد مفسرین کے نزدیک عیسی ابن مریم ہیں۔دیکھو تفسیر ابن کثیر جلد 4 صفحہ 35) اس وقت تک جو کچھ کہا گیا ہے اس کا تعلق ان اقوال سے ہے جو اخبار غیبیہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حضرت بانی جماعت احمدیہ علیہ السلام کا یہ دعویٰ کہ میں مہدی معہود اور مسیح موعود ہوں اس کی کیا حیثیت ہے۔آپ دنیا